MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم

غزل

 

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم
کانٹوں سے واسطہ ہے مگر ہیں چمن میں ہم

سمجھو نہ داغ دامن دل میں یہ پھول ہیں
اب ہیں قفس نصیب کبھی تھے چمن میں ہم

رسوا نہ زخم تیر نظر ہو یہ خوف ہے
ہاتھوں سے دل چھپائے ہوئے ہیں کفن میں ہم

وہ حسن تھا کہ حسن نظر تھا خبر نہیں
کچھ دیکھتے رہے ہیں تری انجمن میں ہم

جاگے ہیں خواب سے بھی تو عالم ہے خواب کا
خوشبو سی پا رہے ہیں ترے پیرہن میں ہم

تھی آرزو چمن کی اور اب دل قفس میں ہے
اک اجنبی سے آئے ہوئے ہیں وطن میں ہم

چاہا درست چاہ جتانا غلط ہوا
سیدھی تھی راہ کھوئے گئے بانکپن میں ہم

دیکھیں گے جلوۂ چمن آرا چمن میں ہم
ذوق نظر سے چاک کریں گے حجاب‌ گل

بیخودؔ خدا کا شکر بتوں کی نظر پڑی
ورنہ گئے تھے گردش چرخ کہن میں ہم

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم