MOJ E SUKHAN

خیال آبرو

خیال آبرو
اب کیا خیال آبرو

بھیڑ میں آن بیٹھے
اب کیا سوال دید اور کیسا حجاب

بس جناب
جاتی ہوا سے کس لیے سر کی ردا بچایئے

دیکھیے مسکرائی ہے
ایک نگاہ اشتیاق

ہوش میں آئیے حضور
آپ بھی مسکرائیے

دیکھ کے یاں برہنہ سر
کون ہے جو ملول ہو

حیف ہے اب بھی شعر کی
داد نہ گر وصول ہو

چھوڑ بھی دیجئے عبیرؔ
کاہے کی پردہ داریاں

شہر سے اٹھ گئیں حضور
پہلی سی وضع داریاں

آپ بھی تو بدل گئیں
جی معذرت قبول ہو

کوئی نہ ساتھ روئے گا
کیوں سر عام روئیے

شعر کی آبرو گئی
کیوں نہ مدام روئیے

اچھی لگی تماش گاہ
دیکھیے خط اٹھائیے

روئیے
روئے جائیے

اب کیا خیال آبرو
بھیڑ میں آن بیٹھیے

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم