MOJ E SUKHAN

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں

غزل

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں
یعنی تم اس جہاں کے تھے ہی نہیں

کیسے الجھے ہیں کار دنیا میں
ہم جو سود و زیاں کے تھے ہی نہیں

میں تو اک وحشت دگر میں تھا
مسئلے جسم و جاں کے تھے ہی نہیں

دشت جاں سے نگاہ یار تلک
راستے درمیاں کے تھے ہی نہیں

کیوں مری داستاں کا حصہ ہیں
جو مری داستاں کے تھے ہی نہیں

خواب بے برگ و بار کیسے ہوئے
جب کہ یہ دن خزاں کے تھے ہی نہیں

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم