MOJ E SUKHAN

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے

غزل

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے
شہر نے واقعہ بنا لیا ہے

ہم تو ہم تھے کہ اس پری رو نے
آئنے کا بھی دل چرا لیا ہے

ورنہ یہ سیل آب لے جاتا
شہر کو آگ نے بچا لیا ہے

ایسی ناؤ میں کیا سفر کرنا
جس نے دریا کو دکھ سنا لیا ہے

کوزہ گر نے ہماری مٹی سے
کیا بنانا تھا کیا بنا لیا ہے

دیکھیے پہلے کون مرتا ہے
سانپ نے آدمی کو کھا لیا ہے

جانے والوں کو اب اجازت ہے
ہم نے اپنا دیا بجھا لیا ہے

جب کوئی بات ہی نہیں عامیؔ
آسماں سر پہ کیوں اٹھا لیا ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم