MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے

غزل

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے
میں وہ زندہ ہوں میری تحریر رہنے کے لیے ہے

ستم گر نے جو پہنائی مرے دست طلب میں
یہ مت سمجھو کہ وہ زنجیر رہنے کے لیے ہے

مرا آئینۂ تصنیف دیتا ہے گواہی
مرا ہر نقطۂ تفسیر رہنے کے لیے ہے

رہے گا تو نہ تیرا ظلم پر روز ابد تک
ہمارے درد کی جاگیر رہنے کے لیے ہے

جسے میر نگاہوں نے کبھی دیکھا نہیں ہے
مرے دل میں وہی تصویر رہنے کے لیے ہے

سر باطل کیا دو لخت جس نے بھی جہاں میں
سلامت بس وہی شمشیر رہنے کے لیے ہے

جنون شوق تخریب جہاں مٹ کر رہے گا
مگر ہر جذبۂ تعمیر رہنے کے لیے ہے

نہ لکھا شعر کوئی اور سمجھ بیٹھے ہیں ناداں
ادب میں حربۂ تشہیر رہنے کے لیے ہے

گزر جائیں گے ہم دار فنا سے بخشؔ لیکن
ہمارے شہر کی تاثیر رہنے کے لیے ہے

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم