MOJ E SUKHAN

نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح

غزل

نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح
میں تڑپتا ہی رہا فرش پہ بسمل کی طرح

ایک پہلو میں رہے دل مرا بسمل کی طرح
ایک پہلو میں رہیں آپ مرے دل کی طرح

کچھ اگر جذب محبت کا اثر ہو جائے
تم بھی بیتاب ہو پہلو میں مرے دل کی طرح

کبھی سیدھے نہ ہوئے یار کے تیور مجھ سے
بل نہ ابرو سے گیا خنجر قاتل کی طرح

ان کے ابرو کا اشارہ یہ ہے ہر عاشق سے
سرنگوں رہتا ہوں میں خنجر قاتل کی طرح

خون پی کر لب سوفار یہ کہتا ہے مرا
سرخ رو رہتا ہوں میں خنجر قاتل کی طرح

او کماندار ترا تیر نظر کھایا ہے
دل پھڑکتا ہے مرا طائر بسمل کی طرح

سارباں نجد میں خالی جو نظر آئی اسے
دل مجنوں تہ و بالا ہوا محمل کی طرح

عاشقوں میں ترے اے مہ نہ ہمیں کیوں ہو فروغ
داغ دل میں ہے ہمارے مہ کامل کی طرح

حل کیا عقدۂ لاحل کو بڑی حکمت سے
تم نے کھولی ہے گرہ دل کی انامل کی طرح

کارواں کو مرے کیونکر ہو خبر غربت میں
دور افتادہ ہوں گرد رہ منزل کی طرح

پاسبانوں کی طرح شب کو جو کرتا ہوں فغاں
دوست رکھتے ہیں مجھے سب سگ منزل کی طرح

ہے یم اشک ہی سے ان کی بقا اور فنا
آنکھیں میری ہیں حباب لب ساحل کی طرح

غنچہ میرے دل بستہ کا جو کھل جاتا ہے
چہچہے باغ میں کرتا ہوں عنادل کی طرح

بے قراری شب فرقت کی نہ پوچھو مجھ سے
برق و سیماب بھی تڑپے نہ مرے دل کی طرح

ہاتھ آئے جو ترے تیر کا پیکاں مجھ کو
اپنے سینے میں رکھوں میں جگر و دل کی طرح

محفل عیش و طرب سے بھی نکالا مجھ کو
کف افسوس ملوں کیوں نہ جلاجل کی طرح

قیس کہتا تھا کہوں کیوں نہ انا لیلیٰ میں
یاد دل میں ہے مری صاحب محمل کی طرح

زورق عمر بڑھی راہ خدا میں دے کر
ناؤ خشکی میں چلی کشتیٔ سائل کی طرح

قتل اے یار کرے گی یہ تواضع تیری
جھک کے ملتا ہے گلے خنجر قاتل کی طرح

اجڑے پہلو کو مرے کیجئے آباد حضور
بے وفا آپ نہ ہو جائیں مرے دل کی طرح

یہ تو آسان ہے فاخرؔ ہو زمیں کیسی ہی سخت
کہنے والے کو نہیں کوئی بھی مشکل کی طرح

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم