MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا

غزل

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا
تمام رات یہ دل سخت امتحان میں تھا

سکوں سراب زمیں میں جھلس گیا تھا بدن
نہ جانے کون دھنک رنگ سائبان میں تھا

ذرا سا دم نہ لیا تھا کہ مند گئیں آنکھیں
میں اس سفر سے نکل کر عجب تکان میں تھا

وہ جاتے جاتے اچانک مڑا تھا میری طرف
مجھے یقیں ہے کہ وہ پھر کسی گمان میں تھا

اسے بھلایا تو اپنا خیال بھی نہ رہا
کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا

احمد محفوظ

دیگر پوسٹس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم