غزل
ہیں خواب گُم ، خیال گُم ، حواس گُم
کہاں کہاں ہوا مرا قیاس گُم
زمانے میں جو بے بسی ہے پھیلی اب
کہ ہوگیا مرا نظر شناس گُم
خیال یہ ستا رہا ہے اب مجھے
کہ ہو نہ جائے آدمی کی آس گُم
نہ بدلے ہم تو ایک دن وہ آئے گا
ہے خطرہ ہو نہ جائیں یہ حواس گُم
ثمرؔ کھلیں اُمید کے یہاں گلاب
کہ بے حسی کا ہو رہے لباس گُم
ثمرین ندیم ثمر