MOJ E SUKHAN

حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھی

غزل

حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھی
یعنی ہمیں بھی راس تھی یہ زندگی کبھی

ہم بھی بہ نام دوستی کھاتے رہے فریب
ہم پر بھی تھا یہ عالم دیوانگی کبھی

ہم بھی تھے کامیاب محبت میں دوستو
ہم پر بھی یعنی وہ نگہ لطف تھی کبھی

پہروں کسی کی یاد میں کھوئے رہے ہیں ہم
غم ہائے زندگی سے جو فرصت ملی کبھی

ہم اور ان سے شکوۂ زور و ستم غلط
مجبور ہو گئے ہیں سو وہ بھی کبھی کبھی

ان سے بچھڑ کے عمر بھر دیتے رہے فریب
ہم زندگی کو اور ہمیں زندگی کبھی

وہ اور مہربان مرے حال زار پر
کیا کیا کمال کرتے ہیں یہ لوگ بھی کبھی

اپنی تباہیوں کا اڑایا ہے خود مذاق
خود قہقہے لگائے ہیں ہم نے کبھی کبھی

خود سے فرار چاہنے والے مجھے بھی دیکھ
ہر سختیٔ حیات سہی اف نہ کی کبھی

مایوس اس قدر بھی نہیں زندگی سے ہم
زندہ رہے تو راس بھی آ جائے گی کبھی

آسیؔ تمام عمر رہیں آہ و زاریاں
دیکھی نہ تیرے ہونٹوں پہ ہم نے ہنسی کبھی

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم