MOJ E SUKHAN

نظم ہجرتوں کے موسم میں

نظم

ہجرتوں کے موسم میں
اک خیال  اک راستہ
منزلوں کی چاہت میں
خواہش رفاقت میں
ساتھ ساتھ چلتے ہیں
ہجرتوں کے موسم میں
کتنے دشت آتے ہیں
کوئی گھر نہیں آتا
تیرگی میں سناٹا
داستاں سناتا ہے
ان بچھڑنے والوں کی
جو فریب امکاں میں
پھر کبھی نہیں آتے
ہجرتوں کے موسم میں
تشنگی کے دریا میں
موج ریگ ہوتی ہے
اور آب نسیاں کا
شائبہ نہیں ہوتا
ان بچھڑنے والوں سے
رابطہ نہیں ہوتا
ہجرتوں کے موسم میں

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم