آئنہ ، ماہتاب ہو نہ سکا
حسن کیوں لاجواب ہو نہ سکا؟
ایسا غصہ تھا اس کے لہجے میں
پھول بھی کامیاب ہو نہ سکا
میں بھی یوسف مزاج تھا لیکن
بس کنواں دستیاب ہو نہ سکا
دکھ میسر بھی تھا ۔۔۔نہیں بھی تھا
اس لیے بھی حساب ہو نہ سکا
میں بھی آدھے سفر سے لوٹ گیا
وہ بھی پورا خراب ہو نہ سکا بے
بہا بھیڑ میں بھی کوئی مجھے
آدمی دستیاب ہو نہ سکا
ارشاد نیازی