MOJ E SUKHAN

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے

غزل

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے
بڑھ رہے ہیں شام کے سائے دھواں سر پر اٹھائے

ریگ زاروں میں بھٹکتی سوچ کے کچھ خشک لمحے
تلخئ حالات کی ہیں داستاں سر پر اٹھائے

خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیں
اور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائے

چند گونگی دستکیں ہیں گھر کے دروازے کے باہر
چیخ سناٹوں کی ہے سارا مکاں سر پر اٹھائے

ذہن میں ٹھہری ہوئی ہے ایک آندھی مدتوں سے
ہم مگر پھرتے رہے ریگ رواں سر پر اٹھائے

عالم لا وارثی میں جانے کب سے در بدر ہوں
پشت پر ماضی کو لادے قرض جاں سر پر اٹھائے

مضطرب سی روح ہے میری بھٹکتا پھر رہا ہوں
میں کئی جنموں سے ہوں بار گراں سر پر اٹھائے

رندؔ جب بے سمتیوں میں خشک پتے اڑ رہے ہوں
تہمتیں کس کے لیے شام خزاں سر پر اٹھائے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم