MOJ E SUKHAN

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں
تھوڑی سی دھوپ روز ملاتا ہوں شام میں

بستی میں اک چراغ کے جلنے سے رات بھر
کیا کیا خلل پڑا ہے ستاروں کے کام میں

اک شخص اپنی ذات کی تعمیر چھوڑ کر
مصروف آج کل ہے مرے انہدام میں

مجھ کو بھی اس گلی میں محبت کسی سے تھی
اب نام کیا بتاؤں رکھا کیا ہے نام میں

کاشفؔ حسین دشت میں جتنے بھی دن رہا
بیٹھا نہیں غبار مرے احترام میں

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم