MOJ E SUKHAN

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی

غزل

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
جس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی

میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوں
تو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی

میں لہو ہوں تو کوئی اور بھی زخمی ہوگا
اپنی دہلیز پہ پھینکو تو نہ شیشہ کوئی

خواہشیں دل میں مچل کر یونہی سو جاتی ہیں
جیسے انگنائی میں روتا ہوا بچہ کوئی

زائچے تو نے امیدوں کے بنائے تھے مگر
مٹ گئے حرف گرا آنکھوں سے قطرہ کوئی

چاندنی جب بھی اترتی ہے مرے آنگن میں
کھولتا ہے تری یادوں کا دریچہ کوئی

میرا گھر جس کے در و بام بھی مہمان سے تھے
کاش اس اجڑے ہوئے گھر میں نہ آتا کوئی

دل کوئی پھول نہیں ہے کہ اگر توڑ دیا
شاخ پر اس سے بھی کھل جائے گا اچھا کوئی

تم بھرے شہر میں افکار لیے پھرتے ہو
سب تو مفلس ہیں خریدے گا یہاں کیا کوئی

رات تنہائی کے میلے میں مرے ساتھ تھا وہ
ورنہ یوں گھر سے نکلتا ہے اکیلا کوئی

آفریںؔ درد کا احساس مٹا ہے ایسے
جیسے بچپن میں بنایا تھا گھروندا کوئی

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم