MOJ E SUKHAN

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا

غزل

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا
چہرہ اندھیری رات کا اشکوں سے دھوئے گا

شعلے ستم کے لائے گی اب رات چاندنی
سورج بدن میں دھوپ کے خنجر چبھوئے گا

اے شہر نا مراد تجھے کچھ خبر بھی ہے
دریا دکھوں کے زہر کا تجھ کو ڈبوئے گا

پربت گرے گا ٹوٹ کے گہرے نشیب میں
کب تک جمود برف کا وہ بوجھ ڈھوئے گا

فکریؔ تو اپنی بات کا انداز تو بدل
ورنہ خزینہ نام کا اک روز کھوئے گا

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم