MOJ E SUKHAN

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں

غزل

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں
قافلے لٹ گئے بہاروں میں

ساز خاموش آرزو بیمار
کوئی نغمہ نہیں ہے تاروں میں

اس طرف بھی نگاہ دزدیدہ
ہم بھی ہیں زندگی کے ماروں میں

یہ تو اک اتفاق ہے ورنہ
آپ اور میرے غم گساروں میں

آدمی آدمی نہ بن پایا
بستیاں لٹ گئیں اشاروں میں

دیکھ کر وقت کے تغیر کو
چاند سہما ہوا ہے تاروں میں

تھے کبھی روح انجمن شوکتؔ
اب تو ہیں اجنبی سے یاروں میں

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم