MOJ E SUKHAN

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے
یا کہیں پہلے پہل آنکھ لڑی ہو جیسے

کتنی یادوں نے ستایا ہے مری یاد کے ساتھ
غم دوراں غم جاناں کی کڑی ہو جیسے

بوئے کاکل کی طرح پھیل گیا شب کا سکوت
تیری آمد بھی قیامت کی گھڑی ہو جیسے

یوں نظر آتے ہیں اخلاص میں ڈوبے ہوئے دوست
دشمنوں پر کوئی افتاد پڑی ہو جیسے

جلوۂ دار ادھر جنت دیدار ادھر
زندگی آج دوراہے پہ کھڑی ہو جیسے

یوں خیال آتے ہی ہر سانس میں محسوس ہوا
غم محبوب تری عمر بڑی ہو جیسے

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم