MOJ E SUKHAN

تیرے سر پہ سوار جو بھی ہے

تیرے سر پہ سوار جو بھی ہے
اس کو سر سے اتار جو بھی ہے

تو اسے اب ذرا جھٹک بھی دے
ذہن میں خلفشار جو بھی ہے

مجھ کو آئے نظر تو میں دیکھوں
دامن دل کے پار جو بھی ہے

آپ اظہار تو کریں مجھ سے
آپ کو مجھ سے پیار جو بھی ہے

ہم وفا کیش ہیں وفا جانیں
دوستوں کا شعار جو بھی ہے

آپ کو اس سے کیا مرے دل میں
بے قراری، قرار جو بھی ہے

میں اسی کی نوائے دل ٹھہری
دہر میں دل فگار جو بھی ہے

آپ کہہ دیجئے صدف سے جناب
آپ کے دل پہ بار جو بھی ہے

صدف بنتِ اظہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم