MOJ E SUKHAN

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری

غزل

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری
حیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزری

مسافرت کی صعوبت میں عمر بیت گئی
بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری

ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات
چراغ حجرۂ فرقت سنبھالتے گزری

وہ تیز لہر تو ہاتھوں سے لے گئی کشتی
پھر اس کے بعد سمندر کھنگالتے گزری

رسائی جس کی نہ تھی بے کراں سمندر تک
وہ موج نہر بھی چھینٹے اچھالتے گزری

یہی نہیں کہ ستارے تھے دسترس سے بعید
ذرا ذرا سے تمنا بھی ٹالتے گزری

تمام عمر تصورؔ ردائے بخت سیاہ
مشقتوں کے لہو سے اجالتے گزری

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم