غزل
تو اگر مجھ سے جدا اے بت ناداں ہوگا
مثل ناقوس یہ دل ہجر میں نالاں ہوگا
موجزن جبکہ مرا دیدۂ گریاں ہوگا
ایک عالم میں بپا نوح کا طوفاں ہوگا
وہ پری میرے جنازے کو جو کاندھا دے گی
تختہ تابوت کا اورنگ سلیماں ہوگا
گل جدائی میں رہے گا جو یوں ہی پژمردہ
گل تربت مجھے داغ غم ہجراں ہوگا
کھینچ لائے گی کبھی تو کشش عشق انہیں
گزر ان کا بھی سوئے گور غریباں ہوگا
تجھ کو اس مہر لقا سے ہے جو الفت شیداؔ
داغ دل دیکھنا رشک مہ تاباں ہوگا
عبدالمجید خواجہ شیدا