MOJ E SUKHAN

نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے

نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے
ستم کی ایک خونی داستاں ہے

کبھی تھا ہجر الفت میں رکاوٹ
وصال اب تیرے میرے درمیاں ہےبیگم

لٹا کیسے، کہاں سب، کچھ نہ پوچھو
کہ اک رہزن ہی میرِ کارواں ہے

یہی غم بن گیا الفت میں طاقت
یہی غم زندگی کا امتحاں ہے

بجھے گی آنسوؤں سے آگ کیسے
کہ دل میں پل رہا آتش فشاں ہے

مرے مرنے کا عقدہ کیسے کھلتا
مرا قاتل ہی میرا راز داں ہے

لگے گی آگ گلشن کو نسیم اب
کہ اک دشمن درونِ آشیاں ہے

نسیم بیگم نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم