MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے
ہم تیرے انتظار میں پھر بھی کھڑے رہے

تُم رُک گئے پہ سنگ کا میلہ نہ کم ہوا
اس کارواں کے ساتھ مسافر بڑے رہے

میرے بدن پہ صرف ہوا کا لباس تھا
تیری قبا میں چاند ستارے جڑے رہے

پیڑوں کو لوگ پوجتے آئے ہیں دیر سے
پتے ہمیشہ پاؤں میں بکھرے پڑے رہے

شاید وہ رام میری طرح بدنصیب تھے
جو لوگ تیرے پیار کی ضد پر اڑے رہے

رام ریاض

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم