MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کی رحمت سے ہوں گلزاروں کے بیچ

ان کی رحمت سے ہوں گلزاروں کے بیچ
راستہ بنتا گیا خاروں کے بیچ

دشمن حق عظمت سرکار سے
لوٹتے رہتے ہیں انگاروں کے بیچ

ان کے روضے پر ہوا محسوس یوں
آگئے جیسے چمن زاروں کے بیچ

جسم و جاں کے زخم سارے بھر گئے
آگئے جب آپ بیماروں کے بیچ

دیکھیے تو مسجد خیر البشر
نور کا دریا ہے میناروں کے بیچ

گونج اٹھا تھا نعرہء تکبیر سے
بدر کا میدان تلواروں کے بیچ

نور کی بارش وہاں رکتی نہیں
رنگ ہیں جنت کے دیواروں کے بیچ

آپ ہیں جب مہرباں تو آئے کیوں
نا امیدی ہم گنہ گاروں کے بیچ

بڑھتی جاتی ہے محبت کس قدر
خاک طیبہ کے طلب گاروں کے بیچ

نعت لکھتے ہیں جو رونق مستقل
میں بھی ہوں اب ان قلم کاروں کے بیچ

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم