MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیسی بلبل کہاں کے پروانے

غزل کیسی بلبل کہاں کے پروانے تم سلامت ہزار دیوانے ہائے کیا کیا بنائے دنیا نے اک محبت کے لاکھ افسانے تیری برہم نگاہ کے صدقے آنکھ بدلی ہوئی ہے دنیا نے ہم نے دیکھی ہے زندگی کی بہار ہم سے پوچھو خزاں کے افسانے اس تغافل پہ ان کو کیا کہئے میرے ہو کر […]

کیسی بلبل کہاں کے پروانے Read More »

گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہے

غزل گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہے ہائے وہ غیر جو اپنوں کی طرح ملتا ہے اپنے رہتے ہیں کناروں کی طرح دور ہی دور غیر اب ٹوٹ کے موجوں کی طرح ملتا ہے کون کہتا ہے کہ میں بھول گیا ہوں اس کو میری آنکھوں سے جو خوابوں کی طرح ملتا ہے

گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہے Read More »

محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے

غزل محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے خدا رکھے یہ ہشیاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے محبت کی فسوں کاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے یہ کافر عقل سے عاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے محبت میں ہیں گرچہ یاس کے دن ہجر کی راتیں مگر یہ زندگی

محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے Read More »

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا

غزل ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا وہ نہ اب اس کی رہ گزر دور جنوں گزر گیا کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا چاہنے والے

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا Read More »

دولت دید پا کر غنی ہو گئی

غزل دولت دید پا کر غنی ہو گئی لگ گئی آنکھ شب دیدنی ہو گئی رات اندھیری تھی تارے تو روتے رہے چاند ہنسنے لگا چاندنی ہو گئی سوئے تھے کس کے نقش قدم راہ میں میری تخئیل سے روشنی ہو گئی کس کے نغموں کی لے کس کی آنکھوں کی مے جاں فزا یوں

دولت دید پا کر غنی ہو گئی Read More »

قدموں پہ ترے دولت و دیں وار گئے ہم

غزل قدموں پہ ترے دولت و دیں وار گئے ہم ہاں اہل ہوس جیت گئے ہار گئے ہم سر تھا تو رہا ایک ہی غم ایک ہی سودا در تیرا سلامت تھا تو سو بار گئے ہم ہاں ہاں وہ امنگوں کے امنڈتے ہوئے دریا ڈوبے ہیں پھر ابھرے ہیں تب اس پار گئے ہم

قدموں پہ ترے دولت و دیں وار گئے ہم Read More »

اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں

غزل اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں بنانے والوں نے خورشید تک بنائے ہیں بس اس سے پہلے کہ دریائے خوں میں جا ڈوبیں ہیں خوش نصیب پسینے میں جو نہائے ہیں ہر ایک حسن و لطافت کی انتہا ہے حیات گل و شراب و بہشت و صنم کنائے ہیں میں جاگتا ہوں کہ

اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں Read More »

خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا

غزل نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ اک امید موہوم پر جی رہا ہوں کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا نگاہ کرم ہو جو رندوں پہ ساقی تو زہر ہلاہل بھی قند

خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا Read More »

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی

غزل تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی کلیجے میں کیوں تیر بن کر گڑی فروزاں ہوئی خلوت ماہتاب مجھے یاد ہے وہ سماں وہ گھڑی جھمکنے لگی عرش اعظم کی جوت نگاہوں پہ اک چھوٹ ایسی پڑی جو چاہا تھا مانگا نہ تھا مل گیا لڑی آنکھ اس سے تو ایسی لڑی کبھی کھلکھلا کر

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی Read More »

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ

غزل سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ نئی سحر کے لئے آفتاب لے آؤ نہ رات ہے نہ خیالات شب نہ خواب سحر جو دن کی جوت جگا دیں وہ خواب لے آؤ برا نہیں ہے جو لکھ جائیں اب بھی چند ورق جو آج تک ہے ادھوری کتاب لے آؤ نقاب الٹتی

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ Read More »