MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں

غزل کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں سینے میں دل ہو اور پریشانیاں نہ ہوں ترک تعلقات تو کرتے ہو دیکھنا تم کو خدا نہ کردہ پشیمانیاں نہ ہوں یہ ساری اضطراب مسلسل کی بات ہے دل کو سکون ہو تو غزل خوانیاں نہ ہوں زخم جگر کو اپنے چھپاتا رہا ہوں میں […]

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں Read More »

غبار دشت جنوں یوں ہی نیک بخت نہ تھا

غزل غبار دشت جنوں یوں ہی نیک بخت نہ تھا وہاں بھی چھاوں تھی اس کی جہاں درخت نہ تھا ہر ایک ہاتھ میں پتھر بلند ہو نے تک خبر یہی تھی کہ بحران اتنا سخت نہ تھا ہمیں بھی راہ دکھا تا کوئ ستارہء شام سفر کی شام ہمارا ہی ایسا بخت نہ تھا

غبار دشت جنوں یوں ہی نیک بخت نہ تھا Read More »

رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپنا

غزل رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپنا ہتھیلی کا چراغ اور دار کا سورج ہے سر اپنا کریں وہ سنگ باری شوق سے حاضر ہے سر اپنا مگر جی بھر کے پہلے دیکھ لیں شیشے کا گھر اپنا مرا احساس محرومی نہیں اظہار مایوسی ابھی کیا ہے ابھی تو دوش پر باقی ہے

رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپنا Read More »

خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہے

غزل خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہے محبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہے عجب کیفیت خود آگہی معلوم ہوتی ہے خودی ہوتی ہے پیدا بے خودی معلوم ہوتی ہے چمن میں کتنی ہی صیاد و گلچیں سازشیں کر لیں مشیت تو مگر کچھ اور ہی معلوم ہوتی ہے مرے ماحول کی پستی

خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہے Read More »

نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سوا

غزل نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سوا ہزار بت ہیں ترے دل میں اک خدا کے سوا نہیں جو ضبط کی توفیق دے خدا کے سوا کہ لاکھ غم بھی ہیں عمر گریز پا کے سوا تمام مصلحتیں وقف ہیں خرد کے لئے نہیں ہے شیوۂ اہل جنوں وفا کے سوا علاج دل

نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سوا Read More »

شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہا

غزل شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہا سب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہا کل ان لبوں پہ یوں مرا ذکر وفا رہا وجدان جھومتا رہا وہ بولتا رہا برسوں یہی مزاج سیاست بنا رہا مجرم کی طرح شہر میں ہر بے خطا رہا گھر سے نکل کے بند گلی میں پہنچ

شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہا Read More »

ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئی

غزل ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئی شاید اب حسن کے ترکش میں نہیں تیر کوئی جذبۂ شوق کی دیکھے مرے تاثیر کوئی بن کے آیا ہے مرے شعر کی تفسیر کوئی جرم الفت کی سزا دار و رسن تک محدود اور کچھ اس سے سوا چاہئے تعذیر کوئی آئنہ بن کے تری بزم

ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئی Read More »

غم چھپاؤں کہ آشکار کروں

غزل غم چھپاؤں کہ آشکار کروں کون سی وضع اختیار کروں حادثوں سے نگاہ چار کروں غم کے لمحوں کو شاہکار کروں اور کیا ہے جو نذر یار کروں جی میں آتا ہے جاں نثار کروں زندگی کو ہی جب ثبات نہیں اور پھر کس کا اعتبار کروں تم بھی محبوب زندگی بھی عزیز تم

غم چھپاؤں کہ آشکار کروں Read More »

میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہا

غزل میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہا کہ روح بن کے رہا میں جس انجمن میں رہا اسیر کشمکش دور پر محن میں رہا وہ آفتاب ہوں جو مدتوں گہن میں رہا خلوص عشق کی محرومیاں معاذ اللہ میں عمر بھر تہی دامن بھرے چمن میں رہا نگاہ محو تماشا لبوں پہ

میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہا Read More »

ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو

غزل ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو کہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلو جہاں سے شیوۂ باطل مٹا سکو تو چلو یہ عزم لے کے مرے ساتھ آ سکو تو چلو اک انقلاب خیالوں میں لا سکو تو چلو کہ سو رہا ہے زمانہ جگا سکو تو چلو شعور

ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو Read More »