MOJ E SUKHAN

خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا

غزل

نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا
خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا

بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا
انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ

اک امید موہوم پر جی رہا ہوں
کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا

نگاہ کرم ہو جو رندوں پہ ساقی
تو زہر ہلاہل بھی قند گوارا

چراغ حرم ہے نہ ہرگز بجھے گا
یہ دل شعلۂ عشق کا ہے شرارہ

میں یوں عرش سے فرش پر آ گرا ہوں
کہ آکاش سے جیسے ٹوٹا ہو تارا

ملے کامرانی کے پھول اس کو اکثر
کیا جس نے کانٹوں میں رہ کر گزارا

ظفرؔ موج طوفاں سے ہم کھیلتے ہیں
مبارک انہیں جن کو ساحل ہے پیارا

سعید الظفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم