MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق شبنم نہیں شرارا ہے

غزل عشق شبنم نہیں شرارا ہے راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے اک کرم کی نگاہ کر دیجے عمر بھر کا ستم گوارا ہے رقص میں ہیں جو ساغر و مینا کس کی نظروں کا یہ اشارا ہے ایسی منزل پہ آ گیا ہوں دوست ترے غم کا فقط سہارا ہے لوٹ آئے ہیں یار […]

عشق شبنم نہیں شرارا ہے Read More »

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو

غزل یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو یہ مے ہے مے اسے اوروں کو بھی پلا کے پیو غم جہاں کو غم زیست کو بھلا کے پیو حسین گیت محبت کے گنگنا کے پیو چھٹے نہ دامن طاعت بھی وقت مے نوشی پیو تو سجدۂ الفت میں سر جھکا کے

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو Read More »

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے

غزل تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا مری داستاں ہی عجیب ہے مرا مسئلہ کوئی اور ہے یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا نہ سمجھ سکے مرا مدعا مجھے

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے Read More »

اردو لسانیات دتا تریہ کیفی

اردو لسانیات دتا تریہ کیفی زبان اصل میں انسان کے تعینات یا اداروں میں سے ہے۔ وہ ان کی معمول ہے جن کی کار بر آری اس سے ہوتی ہے۔ وہی اس کے محافظ و مختار ہیں۔ انہیں نے عوارض اور ضروریات کے مطابق اس کو پنے ڈھب کا بنایا ہے۔ ہمیشہ ہر کہیں ایسا

اردو لسانیات دتا تریہ کیفی Read More »

متروکات تحریر  دتا تریہ کیفی

متروکات تحریر  دتا تریہ کیفی طب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چند برسوں کے بعد انسان کا گوشت اور پوست نیا بن جاتا ہے۔ زیادہ تر اس وجہ سے کہ وہ اپنی غذا کے لئے بے شمار بیرونی اشیا کا محتاج ہے۔ اس پر بھی جراح نے جو کبھی کسی انسان کے جسم پر

متروکات تحریر  دتا تریہ کیفی Read More »

مبادیات فصاحت تحریر  دتا تریہ کیفی

مبادیات فصاحت تحریر  دتا تریہ کیفی ہر زمانہ میں بعض افراد اس خیال کے ہوتے ہیں کہ قاعدہ اور قانون فضول ہیں۔ ان کے زعم میں مشق اور عادت سب کچھ سکھا دیتی ہے۔ وہبیت کا یہ جنوں دماغوں پر آج کل از حد طاری ہے۔ لیکن دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ادب کے

مبادیات فصاحت تحریر  دتا تریہ کیفی Read More »

تذکیر و تانیث تحریر دتا تریہ کیفی

تذکیر و تانیث تحریر دتا تریہ کیفی آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ عورتیں جنہیں ہر مہذب اور متمدن سوسائٹی میں صنف نازک جیسے نام دیے جاتے ہیں، اپنی کانفرنسیں کرتی ہیں جن میں حقوق کی مساوات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ یہ محذرات سیاسی اور اجتماعی معاملوں سے ذرا

تذکیر و تانیث تحریر دتا تریہ کیفی Read More »

نثری نظمیں: بحث کا ایک اور رخ باقر مہدی

نثری نظمیں: بحث کا ایک اور رخ باقر مہدی اب جب کہ جدیدیت کے خلاف ردعمل شروع ہو چکا ہے، دقیانوسیت اور ترقی پسندی مل جل کر ’’یلغار‘‘ کرنے والی ہیں۔ یہ وقفہ جدیدیت کی ایک اہم شاخ نثری نظموں کے مطالعے کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے۔ یوں نثر اور نظم ایک دوسرے

نثری نظمیں: بحث کا ایک اور رخ باقر مہدی Read More »

غزل کا تیسرا نام باقر مہدی

غزل کا تیسرا نام باقر مہدی (۲۸ ستمبر ۶۳ء کوعوامی سنٹر (بمبئی) کی طرف سے ’شب یگانہ‘ منائی گئی، جس میں سردار جعفری نے یگانہ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ ظ۔ انصار ی نے یگانہ کو ایک بڑا کاریگر کہا۔ علی وجد نے یگانہ کو اچھا شاعر تسلیم کیا مگران کی شخصیت پر ناجائز

غزل کا تیسرا نام باقر مہدی Read More »

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں

غزل سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں اپنی ہستی میں خدا کو کبھی ڈھونڈا ہی نہیں الجھا الجھا سا ہے کیوں اپنے بھرم میں ہر دم تو نے خود اپنے گریبان میں جھانکا ہی نہیں تیرے ہونے سے کرم اس کا نظر آتا ہے تجھ سے بڑھ کر کوئی شاہد وہ

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں Read More »