MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جس نے جانا جہاں تماشا ہے

غزل جس نے جانا جہاں تماشا ہے اس کی ٹھوکر میں یہ زمانہ ہے بے غرض ہار جیت سے جو ہو زندگی اس کی فاتحانہ ہے فکر جو خود گرفت میں رکھے اس کا انداز شاعرانہ ہے گرم رکھتا ہے جو خودی اپنی بے نیازی سے وہ شناسا ہے دو ہی پل کا ہے کھیل […]

جس نے جانا جہاں تماشا ہے Read More »

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا

غزل بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا وقت سے پہلے قیامت کا نظارا کر دیا لاکھ کہنے پر بھی اس نے رخ پہ رکھا تھا نقاب اک جھلک کی آرزو کو ناگوارا کر دیا چل پڑے دامن جھٹک کر ہم کو پیچھے چھوڑ کر تنہا آغاز سفر پر کیوں دوبارہ کر

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا Read More »

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا

غزل مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا کوئی دوست تم سا ہوتا کوئی ہم سفر تو ہوتا یہ تمام سائے اپنے چلوں کب تلک سمیٹے کوئی ہم نشیں تو ہوتا کوئی چارہ گر تو ہوتا کبھی کچھ گمان ہوتا مجھے منزلوں کا اپنی جسے اپنا ہم نے سمجھا وہی راہبر تو ہوتا

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا Read More »

خامشی میں قیاس میرا ہے

غزل خامشی میں قیاس میرا ہے بندشیں ہی لباس میرا ہے خواب پھولوں کے آنکھ نے گوندھے پھر چمن کیوں اداس میرا ہے کوئی تعبیر خواب مل جاتی کیا مقدر ہی یاس میرا ہے حسرتوں آج دور ہی رہنا آج پھر دل اداس میرا ہے تو گزر جا ادھر صباؔ بن کر اے صنم یہ

خامشی میں قیاس میرا ہے Read More »

پاس ہونے کا اشارا مل گیا

غزل پاس ہونے کا اشارا مل گیا اب تو جینے کا سہارا مل گیا ڈھل گیا سورج تو کچھ ایسا لگا صبح نو کا اک نظارا مل گیا تم ملے تو مل گئی ہے زندگی مرتے مرتے بھی سہارا مل گیا نا امیدی کو ملی امید اک اک سہارا جب تمہارا مل گیا ڈوبنے والی

پاس ہونے کا اشارا مل گیا Read More »

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے

غزل بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے آج پھر تم سے کوئی آس لگائی ہم نے مشکلیں راہ وفا میں بھی بنائیں آساں رسم الفت تو بہ ہر طور نبھائی ہم نے شاید آ جاؤ کسی روز کبھی لوٹ کے تم بس اسی آس میں ہر راہ سجائی ہم نے تم کبھی تھے

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے Read More »

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں

غزل خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں قیمت بھی سادگی کی چکاتا رہا ہوں میں یوں بھیڑ میں تو لٹنا بڑی عام بات ہے صحرا میں خود کو تنہا لٹاتا رہا ہوں میں منزل کی جستجو بھی عجب شے ہے دوستو ٹھوکر سے زخم اپنے لگاتا رہا ہوں میں کر کے کسی کو

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں Read More »

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ

غزل خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ غم با وفا تھے چلتے رہے آدمی کے ساتھ ڈھلنے لگی جوانی جو آئی تھی چار دن ٹھہرا بڑھاپا قبر تلک رہبری کے ساتھ انداز زندگی کے بدل کر جیو سدا اپنوں کی بے رخی کو سہو تم خوشی کے ساتھ پوجا ہے میں نے

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ Read More »

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو

غزل شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو مشکل حیات ہنس کے ہمیشہ گزار تو کیوں فکر حال و ماضی کی کرتا ہے روز و شب سب اس کو اختیار ہے بے اختیار تو مایوس کیوں جفاؤں سے ہوتا ہے بے وجہ سب کے گلے میں ڈال وفاؤں کے ہار تو خوددار بن خودی

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو Read More »

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم

غزل سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم اور لب پہ اک سکوت سجائے ہوئے ہیں ہم جو آشنا نہیں ہیں محبت کی آنچ سے کیوں آس ان سے پھر بھی لگائے ہوئے ہیں ہم شعلے جو بجھ چکے ہیں انہیں تم ہوا نہ دو دل میں ہی ایک آگ لگائے ہوئے ہیں ہم

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم Read More »