جس نے جانا جہاں تماشا ہے
غزل جس نے جانا جہاں تماشا ہے اس کی ٹھوکر میں یہ زمانہ ہے بے غرض ہار جیت سے جو ہو زندگی اس کی فاتحانہ ہے فکر جو خود گرفت میں رکھے اس کا انداز شاعرانہ ہے گرم رکھتا ہے جو خودی اپنی بے نیازی سے وہ شناسا ہے دو ہی پل کا ہے کھیل […]
جس نے جانا جہاں تماشا ہے Read More »