MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی

غزل اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی کہتے ہیں جسے زیست شبستاں بھی ہے رن بھی کیا ہو گیا انسان کا وہ شوق شہادت ویران نظر آتے ہیں اب دار و رسن بھی بجھ جائے گی مل جل کے اگر پیاس بجھاؤ گنگا ہی کے نزدیک تو ہے رود جمن بھی اب […]

اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی Read More »

جب آدمی مدعائے حق ہے تو کیا کہیں مدعا کہاں ہے

غزل جب آدمی مدعائے حق ہے تو کیا کہیں مدعا کہاں ہے خدا ہے خود جس کے دل میں پنہاں وہ ڈھونڈھتا ہے خدا کہاں ہے یہ بزم یاران خود نما ہے نہ کر خلوص وفا کی باتیں سبھی تو ہیں مدعی وفا کے یہاں کوئی بے وفا کہاں ہے تمام پرتو ہیں عکس پرتو

جب آدمی مدعائے حق ہے تو کیا کہیں مدعا کہاں ہے Read More »

راز نہاں تھی زندگی راز نہاں ہے آج بھی

غزل راز نہاں تھی زندگی راز نہاں ہے آج بھی وہم و گماں میں تھی وہم و گماں ہے آج بھی کل بھی نوائے آگہی قیمت سنگ و خشت تھی نغمۂ امن و آشتی جنس گراں ہے آج بھی دل سے تو روز و شب ہوئی لاکھ طرح کی گفتگو تشنۂ گفتگو مگر اپنی زباں

راز نہاں تھی زندگی راز نہاں ہے آج بھی Read More »

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

غزل کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں تھا عیاں وہ راز دل جس کو نہاں سمجھا تھا میں سن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کو بہ کو تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں عارضی سا عکس تھا اک التفات دوست کا جس کو نادانی سے عیش جاوداں

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں Read More »

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے

غزل لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے انہیں کے در پہ سلاطین روزگار ملے وہ راز جس سے سلگتا رہا ہے دل کہہ دیں ہمارے دل سا اگر کوئی رازدار ملے شراب خانۂ چشتی میں بھی نظر آئے ہمیں جو الفت نانک کے بادہ خوار ملے غم جہاں نگری کا سفر قیامت تھا

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے Read More »

ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملی

غزل ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملی ملے نہ تم تو کہیں بھی ہمیں خوشی نہ ملی نہ چاند میں نہ شفق میں نہ لالہ و گل میں جو آپ میں ہے کہیں بھی وہ دل کشی نہ ملی نگاہ لطف کی ہے منتظر مری شب غم ستارے ڈوب چلے اور روشنی نہ

ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملی Read More »

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی

غزل جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی اپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہی زندگی وہ جو حریف غم ایام رہے دل شکستہ ہے تو کیا ساز اٹھاؤ تو سہی جاگ اٹھے گی یہ سوئی ہوئی دنیا لیکن پہلے خوابیدہ تمنا کو جگاؤ تو سہی پھول ہی پھول ہیں کہتے ہو

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی Read More »

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

غزل رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے پھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہے بادہ خواران فنا بڑھ کے قدم لو اس کے لے کے ساغر میں جو صہبائے دوام آیا ہے میں نے سیکھا ہے زمانے سے محبت کرنا تیرا پیغام محبت مرے کام آیا ہے رہبر جادۂ حق

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے Read More »

وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی

غزل وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی جو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقی جام و مینا مری نظروں سے ہٹا دے ساقی یہ جو آنکھوں میں چھلکتی ہے پلا دے ساقی شعلۂ عشق سے چھلکا دے مرے شیشے کو اور بیتاب کو بیتاب بنا دے ساقی حرم و دیر میں بٹ

وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی Read More »

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا

غزل نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا اگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگا حرم والے تو پوچھیں گے بتا تو کس کا بندہ ہے خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہوگا مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح اگر ان

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا Read More »