کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی
غزل کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی زندگی اور الجھتی رہی دیوانے کی جادہ پیمائی کا پھر شوق ہوا ہے مجھ کو وسعتیں اور بڑھا دو ذرا ویرانے کی ہو صداقت پہ جو مبنی ترے آنے کی خبر اور بڑھ جائے گی رونق مرے کاشانے کی لوگ کہتے ہیں کہ اکسیر صفت ہوتی ہے […]
کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی Read More »