MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی

غزل کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی زندگی اور الجھتی رہی دیوانے کی جادہ پیمائی کا پھر شوق ہوا ہے مجھ کو وسعتیں اور بڑھا دو ذرا ویرانے کی ہو صداقت پہ جو مبنی ترے آنے کی خبر اور بڑھ جائے گی رونق مرے کاشانے کی لوگ کہتے ہیں کہ اکسیر صفت ہوتی ہے […]

کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی Read More »

بڑی لطیف بڑی خوش گوار گزری ہے

غزل بڑی لطیف بڑی خوش گوار گزری ہے وہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے ہلاک گردش لیل و نہار گزری ہے تمام عمر بڑی بے قرار گزری ہے مقام ایسا بھی آیا ہے عشق میں کہ جہاں نفس کی آمد و شد دل پہ بار گزری ہے نگاہیں فرش رہ دوست اور دل

بڑی لطیف بڑی خوش گوار گزری ہے Read More »

مجھے تو خود نہیں معلوم ہے کہ کیا ہوں میں

غزل مجھے تو خود نہیں معلوم ہے کہ کیا ہوں میں کسی کے جلووں میں گم ہو کے رہ گیا ہوں میں مرے سکوت کو صرف اہل دل ہی سمجھیں گے خموش رہ کے بڑی بات کہہ گیا ہوں میں مجھے نہ سن کہ سماعت پہ تیری بار نہ ہو شکستہ ساز کی بکھری ہوئی

مجھے تو خود نہیں معلوم ہے کہ کیا ہوں میں Read More »

زندگی بھر کی دعاؤں کا صلہ ہوتا ہے

غزل زندگی بھر کی دعاؤں کا صلہ ہوتا ہے اک وہ سجدہ جو ترے در پہ ادا ہوتا ہے دوستو پرسش احوال سے کیا ہوتا ہے اس تسلی سے تو غم اور سوا ہوتا ہے جو ہلاک روش خود‌ نگری ہو جائیں ان کو آئینہ دکھانے سے بھی کیا ہوتا ہے پھول خود آتش جذبات

زندگی بھر کی دعاؤں کا صلہ ہوتا ہے Read More »

منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے

غزل منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے ہم کب حریف گردش شام و سحر نہ تھے طوفان باد و غم سے بھی زیر و زبر نہ تھے آخر ہم آدمی تھے چراغ سحر نہ تھے گزرے رہ جنوں سے بہت کارواں مگر وہ چوٹ کھا گئے جو وسیع النظر نہ تھے اہل وفا نے

منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے Read More »

منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے

غزل منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے ہم کب حریف گردش شام و سحر نہ تھے طوفان باد و غم سے بھی زیر و زبر نہ تھے آخر ہم آدمی تھے چراغ سحر نہ تھے گزرے رہ جنوں سے بہت کارواں مگر وہ چوٹ کھا گئے جو وسیع النظر نہ تھے اہل وفا نے

منت گزار راہزن و راہبر نہ تھے Read More »

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی

غزل سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی آتا ہے کسی دن تو بشر لوٹ کے گھر بھی منزل تو بڑی شے نہ ملی راہ گزر بھی باندھا تھا بڑے شوق سے کیا رخت سفر بھی اندر سے پھپھوندے ہوئے دیوار بھی در بھی دیکھے ہیں بڑے لوگوں کے ہم نے بڑے گھر

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی Read More »

زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے

غزل زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے کتنے ہشیار تھے جو عشق میں دیوانہ بنے جرأت دید اگر میری تماشہ نہ بنے در حقیقت مرا افسانہ پھر افسانہ بنے کچھ پتنگوں ہی پہ موقوف نہیں جان وفا جو بھی آ جائے تری بزم میں پروانہ بنے کتنے دلچسپ ہیں اس شوخ نظر کے انداز

زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے Read More »

ہم شب غم جو اشک بار رہے

غزل ہم شب غم جو اشک بار رہے چاند تارے بھی بیقرار رہے کون منت کش بہار رہے ہاں یہ ویرانہ سازگار رہے وہ ہی تسکین کا سہارا تھے میں نے مانا کہ غم ہزار رہے کبھی گلشن کبھی بیاباں میں ہم بہ ہر حال بے قرار رہے ان کو راحت کی آرزو نہ ہوئی

ہم شب غم جو اشک بار رہے Read More »

منسلک ہو کر تمہارے نام سے

غزل منسلک ہو کر تمہارے نام سے مطمئن ہوں گردش ایام سے بن گئے میرے لیے الزام سے جو پیام آئے تمہارے نام سے ہے تصور میں ترے گیسو کی چھاؤں نیند آئی ہے بڑے آرام سے جن کی تحریروں سے پہچانا گیا کچھ خطوط ایسے بھی تھے گمنام سے آج تنہا آپ ہی رسوا

منسلک ہو کر تمہارے نام سے Read More »