MOJ E SUKHAN

مجھے تو خود نہیں معلوم ہے کہ کیا ہوں میں

غزل

مجھے تو خود نہیں معلوم ہے کہ کیا ہوں میں
کسی کے جلووں میں گم ہو کے رہ گیا ہوں میں

مرے سکوت کو صرف اہل دل ہی سمجھیں گے
خموش رہ کے بڑی بات کہہ گیا ہوں میں

مجھے نہ سن کہ سماعت پہ تیری بار نہ ہو
شکستہ ساز کی بکھری ہوئی صدا ہوں میں

نہیں ہے ظلمت شب ہی مہیب میرے لیے
کہ چاندنی میں بھی اکثر تڑپ گیا ہوں میں

ہر اک سے پوچھتا پھرتا ہوں تیرے گھر کا پتہ
تری تلاش میں دیوانہ ہو گیا ہوں میں

حیات و موت کی الجھن میں مبتلا ہو کر
تری نگاہ کے انداز دیکھتا ہوں میں

قدم ملا کے چلوں بھی تو کیسے میں بسملؔ
کہ تیز رو ہے زمانہ شکستہ پا ہوں میں

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم