MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے

غزل کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے تاروں کی صف میں چاند سخنور لگا مجھے سوچا تو ہم سفر مجھے تنہائیاں ملیں دیکھا تو آسمان بھی سر پر لگا مجھے تجھ سے بچھڑ کے یہ مری آنکھوں کو کیا ہوا جس پر نظر پڑی ترا پیکر لگا مجھے یہ کس نے آ کے […]

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے Read More »

نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک

غزل نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک جنوں لے جائے گا آخر کہاں تک جہاں ممنوع ہے شغل فغاں تک وہاں شکوے اگر آئے زباں تک نہ اٹھواؤ ہمیں محفل سے اپنی بڑی مشکل سے آئے ہیں یہاں تک تمہیں محسوس ہوگا ساتھ ہوں میں مجھے عالم میں ڈھونڈو گے جہاں تک ہم

نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک Read More »

جنون شوق محبت ہے کیا کیا جائے

غزل جنون شوق محبت ہے کیا کیا جائے یہی تو رنگ طبیعت ہے کیا کیا جائے جو اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھائے پھرتے ہیں انہیں سے مجھ کو عقیدت ہے کیا کیا جائے زمانہ میرے فسانے سے خوب واقف ہے کسی کو پھر بھی شکایت ہے کیا کیا جائے کوئی یہ جا کے بتا دے

جنون شوق محبت ہے کیا کیا جائے Read More »

ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا

غزل ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا جبین شوق پہ آتی ہے پھر شکن تنہا بہار آتے ہی پھر قصۂ گل و بلبل خزاں کا جور اٹھاتا رہا چمن تنہا فسانے جرأت و ہمت کے ہیں بہت لیکن جہان عشق میں فرہاد کوہکن تنہا اسی کے نور سے ظلمت کدے منور ہیں

ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا Read More »

تبسم لب خنداں کے ساتھ ساتھ چلو

غزل تبسم لب خنداں کے ساتھ ساتھ چلو سرور شوخئ پنہاں کے ساتھ ساتھ چلو جنوں میں خوئے غزالاں کے ساتھ ساتھ چلو شعار حشر بداماں کے ساتھ ساتھ چلو اٹھائے بار الم دوش پر زمانے کا ہجوم گردش دوراں کے ساتھ ساتھ چلو تھکن بنے نہ کبھی اب سے پاؤں کی زنجیر دلوں میں

تبسم لب خنداں کے ساتھ ساتھ چلو Read More »

فکر و نظر کی جنگ ہے خود سر کے سامنے

غزل فکر و نظر کی جنگ ہے خود سر کے سامنے اک سبز انقلاب ہے پتھر کے سامنے دریا ابل پڑا ہے سمندر کے سامنے شیشہ گروں کی بھیڑ ہے زر گر کے سامنے جھوٹا سا ایک وعدۂ فردا بھی ہے بہت تسکین کے لیے دل مضطر کے سامنے کوئی دلیل کوئی نہ حجت نہ

فکر و نظر کی جنگ ہے خود سر کے سامنے Read More »

شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے

غزل شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے تمہیں بنا لوں میں اپنا اگر برا نہ لگے وہ دے نہ پائے گا میری محبتوں کا جواب اسے تو میرا ہر اک لفظ تازیانہ لگے دعا یہی ہے مجھے بھول جاؤ تم ورنہ تمہیں بھلانے میں مجھ کو بہت زمانہ لگے قبا گلوں کی بہاروں میں

شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے Read More »

موسم ہے بہاروں کا ہر اک زخم ہرا ہے

غزل موسم ہے بہاروں کا ہر اک زخم ہرا ہے احساس غم سوز دروں جاگ اٹھا ہے بڑھ جائے نہ بیتابیٔ دل صبر کی حد سے گزرے ہوئے لمحوں نے تمہیں یاد کیا ہے بدمست فضاؤں میں بکھرتی ہوئی خوشبو اے دوست یہ شاید ترے آنے کا پتا ہے اک تم سے ہی دل کو

موسم ہے بہاروں کا ہر اک زخم ہرا ہے Read More »

جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا

غزل جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا ان کے جانے کا غم نہیں ہوتا سامنا ہو کے ہو نہ پاس ادب مجھ سے ایسا ستم نہیں ہوتا دل نے لاکھوں سہے ہیں رنج و الم پھر بھی پابند غم نہیں ہوتا کیسے روتی ہیں روز و شب آنکھیں ان کا دامن بھی نم نہیں ہوتا گردش

جذبۂ شوق کم نہیں ہوتا Read More »

جب بھی ہوئی تعمیر نشیمن برق تپاں تک بات گئی

غزل جب بھی ہوئی تعمیر نشیمن برق تپاں تک بات گئی آگ لگی جب شاخ چمن میں اپنے مکاں تک بات گئی ذکر لب و رخسار سے اکثر ٹوٹ گیا گلچیں کا بھرم بات چلی تھی غنچہ و گل کی اور خزاں تک بات گئی ان کے گناہ و جرم و خطا پر قد آور

جب بھی ہوئی تعمیر نشیمن برق تپاں تک بات گئی Read More »