تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
غزل تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا جب […]
تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا Read More »