MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سائے کی خاموشی سارا شگفتہ

سائے کی خاموشی سارا شگفتہ سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا قہقہے کا پتھر سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا سائے کی خاموشی اور پھول نہیں سہتے تم سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو کہ تم خود اپنی ترتیب […]

سائے کی خاموشی سارا شگفتہ Read More »

موت کی تلاشی مت لو سارا شگفتہ

موت کی تلاشی مت لو سارا شگفتہ بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ میری خطا کر بیٹھا کوئی جائے تو چلی جاؤں کوئی آئے تو رخصت ہو جاؤں میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے موت کی تلاشی مت لو انسان سے پہلے موت زندہ

موت کی تلاشی مت لو سارا شگفتہ Read More »

شاید مٹی مجھے پھر پکارے

شاید مٹی مجھے پھر پکارے سن دریا اپنی مٹھی کھول رہا ہے سن کچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہے جنگل کے پیڑ ارادے زمین کو بوسہ دے رہے ہیں چاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیں آنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیں سمندر مٹی کو چوکور کر نہیں

شاید مٹی مجھے پھر پکارے Read More »

کیسے ٹہلتا ہے چاند

کیسے ٹہلتا ہے چاند کیسے ٹہلتا ہے چاند آسمان پہ جیسے ضبط کی پہلی منزل آواز کے علاوہ بھی انسان ہے آنکھوں کو چھو لینے کی قیمت پہ اداس مت ہو قبر کی شرم ابھی باقی ہے ہنسی ہماری موت کی شہادت ہے لحد میں پیدا ہونے والے بچے ہماری ماں آنکھ ہے قبر تو

کیسے ٹہلتا ہے چاند Read More »

شیلی بیٹی کے نام ترجمہ: فرانسس ڈبلیو پریچیٹ

شیلی بیٹی کے نام ترجمہ: فرانسس ڈبلیو پریچیٹ تجھے جب بھی کوئی دکھ دے اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا جب میرے سفید بال تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے ان کھیتوں میں میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی بس پہلی

شیلی بیٹی کے نام ترجمہ: فرانسس ڈبلیو پریچیٹ Read More »

آدھا کمرہ نظم سارا شگفتہ

آدھا کمرہ اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیں کہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئے وہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتا اس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھی کاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئی تم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو

آدھا کمرہ نظم سارا شگفتہ Read More »

عورت اور نمک نظم سارا شگفتہ

عورت اور نمک عزت کی بہت سی قسمیں ہیں گھونگھٹ تھپڑ گندم عزت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھونکی گئی ہیں گھر سے لے کر فٹ پاتھ تک ہمارا نہیں عزت ہمارے گزارے کی بات ہے عزت کے نیزے سے ہمیں داغا جاتا ہے عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہے کوئی

عورت اور نمک نظم سارا شگفتہ Read More »

چاند کا قرض سارا شگفتہ

چاند کا قرض ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں

چاند کا قرض سارا شگفتہ Read More »

ضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے

غزل ضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش

ضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے Read More »

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

غزل گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے Read More »