MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اقبال اور جرمن فلسفہ عمران شاہد بھنڈر

اقبال اور جرمن فلسفہ عمران شاہد بھنڈر ہر فلسفی کا اپنا ایک فلسفیانہ نظام ہوتا ہے، جس میں حسیات، مقولات (Categories) اور تعقلات (Concepts) کسی فلسفیانہ نظام کے داخلی تقاضوں کے تحت تشکیل دیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف فلسفوں میں مقولات، تعقلات اور خیالات مختلف مفاہیم رکھتے ہیں اور ان مقولات اور […]

اقبال اور جرمن فلسفہ عمران شاہد بھنڈر Read More »

عشق کا یہ دستور نہیں ہے

غزل عشق کا یہ دستور نہیں ہے کوئی بھی منصور نہیں ہے ایک نظر اے برق تجلی دل ہے ہمارا طور نہیں ہے خون ہمارا چھپ نہ سکے گا خون ہے یہ کافور نہیں ہے راہی ہمت ہار نہ دیجو منزل اب کچھ دور نہیں ہے حسن نے ڈالیں لاکھ نقابیں پر دل سے مستور

عشق کا یہ دستور نہیں ہے Read More »

قافلہ دل کا لٹ گیا ہوتا

غزل قافلہ دل کا لٹ گیا ہوتا حسن رہزن کوئی ملا ہوتا اپنے دل پر ہی اعتبار نہیں آپ کا اعتبار کیا ہوتا شکوۂ غم نہ کر محبت میں یہ نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا جلوۂ حسن کار فرما تھا ورنہ یوں طور جل گیا ہوتا میں خود اپنی نظر میں آ نہ سکا

قافلہ دل کا لٹ گیا ہوتا Read More »

فریب شوق نہ دے وقف امتحاں نہ بنا

غزل فریب شوق نہ دے وقف امتحاں نہ بنا مری طلب کو بس اب اور بھی گراں نہ بنا عطائے دوست ہے یہ جنس رائیگاں نہ بنا تجھے جو درد ملا ہے اسے فغاں نہ بنا بنانا چاہے تو اب بجلیوں سے دے ترتیب چمن میں اب کبھی تنکوں کا آشیاں نہ بنا کبھی وہ

فریب شوق نہ دے وقف امتحاں نہ بنا Read More »

یہ بھی جی چرا بیٹھی بار غم اٹھانے سے

غزل یہ بھی جی چرا بیٹھی بار غم اٹھانے سے زیست دے گئی دھوکہ موت کے بہانے سے درد کو کسی پہلو چین ہی نہیں آتا زندگی مصیبت ہے دل کے ٹوٹ جانے سے فطرت محبت کا رنگ ہی نرالا ہے یاد آتے جاتے ہیں اور وہ بھلانے سے کس قدر تلون ہے آدمی کی

یہ بھی جی چرا بیٹھی بار غم اٹھانے سے Read More »

وہ عالم بھی عجب اک عالم مجبور ہوتا ہے

غزل وہ عالم بھی عجب اک عالم مجبور ہوتا ہے سفینہ غرق دریا اور ساحل دور ہوتا ہے وہی تو جلوۂ بے تاب برق طور ہوتا ہے جو دل میں جاگزیں ہو کر نظر سے دور ہوتا ہے کیا کرتا ہے دعویٰ آدمی مختار ہونے کا مگر یہ بے خبر تو مطلقاً مجبور ہوتا ہے

وہ عالم بھی عجب اک عالم مجبور ہوتا ہے Read More »

آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں

غزل آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں ہاں مگر اب زندگی میں دم نہیں اے جفائے دوست یہ بھی کم نہیں درد اب بھی ہے مگر اب غم نہیں اس میں پڑھ لیتا ہوں تفسیر حیات یہ مرا دل ہے یہ جام جم نہیں آدمی کی خود فریبی الامان اور اپنے دکھ بھی اب

آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں Read More »

جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ

غزل جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ ہر قدم پر غم کی منزل کے سوا کچھ بھی نہیں یوں تصور نے بڑھائے حوصلے طوفان میں جیسے ہر اک موج ساحل کے سوا کچھ بھی نہیں ان کی خلوت گاہ بھی ہے ان کی جلوت گاہ بھی وسعت کونین میں دل کے سوا

جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ Read More »

عشق کے ہر اسرار سے واقف ہیں یہ لوگ

غزل عشق کے ہر اسرار سے واقف ہیں یہ لوگ پوچھ پتے کی باتیں ان دیوانوں سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بے کار نہ جان بن جاتے ہیں دور انہیں افسانوں سے اپنوں سے جب ٹوٹ گئی امید وفا ہم نے ناطہ جوڑ لیا بیگانوں سے دھو دیتے ہو جن کی خاکستر کے نشاں محفل

عشق کے ہر اسرار سے واقف ہیں یہ لوگ Read More »

فسانۂ غم جاناں کسی پہ بار نہیں

غزل فسانۂ غم جاناں کسی پہ بار نہیں اب اپنے دل کے سوا کوئی رازدار نہیں مری نگاہ کی رفعت پہ ہے مدار اس کا تری ادا پہ محبت کا انحصار نہیں بدل نہ جائے کہیں میرے اعتماد کا رخ وہ معتبر ہے یہاں جس کا اعتبار نہیں اک ایسا جام ادھر بھی بہار کے

فسانۂ غم جاناں کسی پہ بار نہیں Read More »