MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر

غزل بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر شرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابر دشمن کوئی اے یار مرا اور ترا دوست ہوگا نہ زمانے میں مرے دل کے برابر دل متصل کوچۂ محبوب ہوا گم لٹنا تھا پہنچ کر مجھے منزل کے برابر کم بختیٔ واعظ ہے کہ ہو وعظ […]

بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر Read More »

شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں

غزل شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں ہجوم آرزو ہے اور میں ہوں دل بیگانہ خو ہے اور میں ہوں بغل میں اک عدو ہے اور میں ہوں مٹاتا ہی رہا جس کو مقدر وہ میری آرزو ہے اور میں ہوں پریشاں خاطری کہتی ہے اپنی کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں

شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں Read More »

صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں

غزل صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں ہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں صبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں آ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں دل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں دونوں حرفوں میں جب اس

صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں Read More »

جانے والا اضطرابِ دل نہیں

غزل جانے والا اضطرابِ دل نہیں یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں

جانے والا اضطرابِ دل نہیں Read More »

دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر

غزل دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر پڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کر چٹکیاں لینے کو بس رہ چکے پنہاں دل میں کبھی پہلو میں بھی آ بیٹھیے ظاہر ہو کر جبہہ سائی کا ارادہ ہو تو پہنچا دے گا در تک اوس بت کے خدا حافظ و ناصر

دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر Read More »

تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا

غزل تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے

تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا Read More »

اے مصور جو مری تصویر کھینچ

غزل اے مصور جو مری تصویر کھینچ حسرت آگیں غمزدہ دلگیر کھینچ جذب بھی کچھ اے تصور چاہئے خود کھنچے جس شوخ کی تصویر کھینچ اے محبت داغ دل مرجھا نہ جائیں عطر ان پھولوں کا بے تاخیر کھینچ آ بتوں میں دیکھ زاہد شان حق دیر میں چل نعرۂ تکبیر کھینچ ایک ساغر پی

اے مصور جو مری تصویر کھینچ Read More »

یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

غزل یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو دل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کو دم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا کیا جانے ادھر دل کی کشش لائے گی کس کو اٹھنے ہی نہیں دیتی ہے جب یاس بٹھا کر پھر شوق کی ہمت کہیں

یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو Read More »

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی

غزل کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی Read More »

مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی

غزل مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی ہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئی شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی بوسہ لے کر جو مکرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں شاعری کا اثر اور جھوٹ کی

مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی Read More »