MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا

غزل وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا ملا وہ غم کدہ جس میں چراغ بھی نہ ملا گئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زلف یار کی بو پھری تو باد صبا کا دماغ بھی نہ ملا چراغ لے کے ارادہ تھا یار کو ڈھونڈیں شب فراق تھی کوئی چراغ بھی […]

وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا Read More »

حسنٍ آشفتہ پہ در بند نہیں کر سکتا

غزل حسنٍ آشفتہ پہ در بند نہیں کر سکتا وحشتا عشق ھے گھر بند نہیں کر سکتا فکر سیماب ھے سر بند نہیں کر سکتا خود کو میں خود میں نظر بند نہیں کر سکتا ثمر و دانہ شجر بند نہیں کر سکتا پنچھیوں کے تو میں پر بند نہیں کر سکتا خوف و طوفان

حسنٍ آشفتہ پہ در بند نہیں کر سکتا Read More »

بن دیکھے بھی رہ سکتا ہوں

غزل بن دیکھے بھی رہ سکتا ہوں کیا یہ تم سے کہہ سکتا ہوں رنگوں کو بانہوں میں لے کر خوشبوؤں میں بہہ سکتا ہوں خود کو خود کی ڈھال بنا کر خود کے اندر ڈھہہ سکتا ہوں گھر کی دیواریں نہ ہوں تو خود کے اندر رہ سکتا ہوں من بچے کو ٹافی دے

بن دیکھے بھی رہ سکتا ہوں Read More »

حکم دست گاہ تک اور بس

غزل حکم دست گاہ تک اور بس کام تنخواہ تک اور بس دو قدم کا سفر آسماں جاہ سے کاہ تک اور بس منتظر منتشر دھڑکنیں راہ سے راہ تک اور بس شہد کے دودھ کے زمزمے شاہ سے شاہ تک اور بس اے سیہ فامیے حد میں رہ سانس کی راہ تک اور بس

حکم دست گاہ تک اور بس Read More »

سایوں کو چھوڑ، جاگتے ابدان ساتھ رکھ

غزل سایوں کو چھوڑ، جاگتے ابدان ساتھ رکھ زندہ ھے تو، تو خواب کا سامان ساتھ رکھ ٹوٹے تھکے بدن کے لئے گھر بنا ضرور گھر کی ضرورتوں کو پہ دکان ساتھ رکھ موسم کے گھاؤ، جھیل تو، بیدار جسم پر پر سیفٹی کو کپڑے کا اک تھان ساتھ رکھ محشر اٹھائے پھرتی ھے یہ

سایوں کو چھوڑ، جاگتے ابدان ساتھ رکھ Read More »

سبز خوشبو بن کے چہکی استعارہ شام کا

غزل سبز خوشبو بن کے چہکی استعارہ شام کا نرم دریا میں بہا دھیرے شکار ا شام کا خواب زخمی کونج کی مانند کرلانے لگے لڑکیوں کی آنکھ میں چمکا ستارا شام کا اور پھر وہ مشترک غم سے بہل کر سو گئے دھوپ سے زخمی پرندہ اور کنارہ شام کا دوپہر کی حادثاتی موت

سبز خوشبو بن کے چہکی استعارہ شام کا Read More »

جب آنکھوں کو درپن کر کے حیرت سے تصویر کیا

غزل جب آنکھوں کو درپن کر کے حیرت سے تصویر کیا اس نے ڈھلتی عمر سے اڑتے جوبن کو زنجیر کیا ان ہونٹوں کی لو سے روشن کی میں دن کی پیشانی اور زلفوں کی صندلتا سے راتوں کو جاگیر کیا اس دہکتے پنڈے سے، میں غصہ آگ جلائی اور ان مخروطی بانہوں کو پھر

جب آنکھوں کو درپن کر کے حیرت سے تصویر کیا Read More »

شطرنج کی بساط کی صورت الٹ گیا

غزل شطرنج کی بساط کی صورت الٹ گیا آندھی چلی تو ریت کے ذروں میں بٹ گیا شہزادہ میری ذات کا باہر نہ آ سکا کم بخت مفلسی کی ردا میں لپٹ گیا میری نگاہیں جس کا احاطہ نہ کر سکیں وہ کیمرے کی آنکھ میں کیسے سمٹ گیا دیوار منہدم جو ہوئی انفعال سے

شطرنج کی بساط کی صورت الٹ گیا Read More »

مجھے وہ گر کسی کالم میں چھاپ بھی دےگا

غزل مجھے وہ گر کسی کالم میں چھاپ بھی دےگا کہاں وہ اس پہ مگر سرخئٍ جلی دے گا سسکتا کانپتا آواز کا سیہ سورج بھڑک اٹھا تو زبانوں کو شعلگی دے گا بکھر رھے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے یہ دور تو ہمیں صحرا سی ریزگی دے گا سیہ گھٹاؤں سے برسے گا

مجھے وہ گر کسی کالم میں چھاپ بھی دےگا Read More »

گولی چلے تو موت کی چہکار دیکھنا

غزل گولی چلے تو موت کی چہکار دیکھنا دہشت زدہ پرند کی رفتار دیکھنا ماتم لباس سطروں کو خونبار دیکھنا ژندہ رہو تو صبح کے اخبار دیکھنا اتریں گی آسمان سے ناراض بارشیں بہہ جائیں گے مکاں یہ شجر وار دیکھنا اک چیخ دانت پیستے پہیوں میں گھٹ گئی غرا کے جھپٹی، پھر وہ، نئی

گولی چلے تو موت کی چہکار دیکھنا Read More »