MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے

غزل یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے جمیلؔ زخم لگے اور بے حساب لگے تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے میں جتنی بار پڑھوں کیسے کیسے رنگ بھروں ترا گلاب سا چہرہ […]

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے Read More »

ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی

غزل ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی میں خندہ زن ہوں کھوکھلی دانائیوں میں بھی عریاں ہے سارا شہر چلی یوں ہوس کی لہر تجھ کو چھپا رہا ہوں میں تنہائیوں میں بھی کیسے تھے لوگ جن کی زبانوں میں نور تھا اب تو تمام جھوٹ ہے سچائیوں میں بھی اب نیک نامیوں

ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی Read More »

محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے

غزل محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے وقت نے چھین لیے کتنے شناسا چہرے ساری دنیا کے لیے ایک تماشا چہرے دل تو پردے میں رہے ہو گئے رسوا چہرے تم وہ بے درد کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ان کو ورنہ کرتے رہے کیا کیا نہ تقاضا چہرے کتنے ہاتھوں نے تراشے

محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے Read More »

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

غزل ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے کتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے خلقت بہت تھی پھر بھی کوئی بولتا نہ تھا سنسان راستوں سے بہت ڈر لگا مجھے قاتل کا ہاتھ آج خدا کے ہے رو بہ رو دست دعا بھی خون کا ساغر لگا مجھے یوں ریزہ ریزہ ہوں کہ

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے Read More »

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

غزل گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے جس حال میں رہے ترا نقش بقا رہے ہم تو تمام عمر تری ہی ادا رہے یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے تو ساتھ ساتھ

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے Read More »

دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے

غزل دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے ہم شناسا تھے مگر صورت اغیار ملے اس سے کہنا کہ نہ اب اور وہ اترا کے چلے دوستو تم کو اگر یار طرحدار ملے بے وفا ہم ہیں تو اے جان وفا یونہی سہی ڈھونڈ لینا جو تمہیں کوئی وفادار ملے ہم

دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے Read More »

رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے

غزل رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے یارو نئے سفر کا ابھی حوصلہ تو ہے واماندگی سے اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا منزل سے آشنا نہ سہی نقش پا تو ہے ہاتھوں میں ہاتھ لے کے یہاں سے گزر چلیں قدموں میں پل صراط سہی راستا تو ہے مانگے کی

رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے Read More »

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے

غزل تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے مرے دل میں اس طرح ہے تری آرزو خراماں کوئی نازنیں ہو جیسے جو کھلی کتاب دیکھے جسے میری آرزو ہو جو خراب کو بہ کو ہو مجھے دیکھنے سے پہلے تجھے بے نقاب دیکھے

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے Read More »

صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس

غزل صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس قاتل یہی تھی تیرے گنہ گار کی ہوس مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین تا حشر تیرے سایۂ دیوار کی ہوس سو بار آئے غش ارنی ہی کہوں گا میں موسیٰ نہیں کہ پھر ہو نہ دیدار کی ہوس رضواں کہاں یہ

صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس Read More »

جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی

غزل جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی وہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتی نکل کے تا بہ لب آہ رسا نہیں آتی کراہتا ہے جو اب دل صدا نہیں آتی ہماری خاک کی مٹی ہے کیا خراب اے چرخ کبھی ادھر کو ادھر کی ہوا نہیں آتی شب وصال کہاں خواب

جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی Read More »