یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے
غزل یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے جمیلؔ زخم لگے اور بے حساب لگے تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے میں جتنی بار پڑھوں کیسے کیسے رنگ بھروں ترا گلاب سا چہرہ […]
یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے Read More »