ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ
غزل ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ مر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگ یہ بھوک یہ ہوس یہ تنزل یہ وحشتیں تعمیر کر رہے ہیں یہ کیسا نظام لوگ بربادیوں نے مجھ کو بہت سرخ رو کیا کرنے لگے ہیں اب تو مرا احترام لوگ انکار کر رہا ہوں […]
ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ Read More »