MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر

غزل زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر آہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کر کر دیا تعین سے ذوق عجز کو آزاد نقش سجدہ نے میرے تیرا نقش پا ہو کر فرط غم سے بے حس ہوں غم ہے غم نہ ہونے کا درد کر دیا پیدا درد نے دوا ہو […]

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر Read More »

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی

غزل یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی دھوپ سے اپنی دوستی کم تھی خواہشوں کے ہجوم تھے لیکن اپنے حصہ میں زندگی کم تھی تم نہ آئے تو بس ہوا اتنا کل چراغوں میں روشنی کم تھی ہاں وہ ہنس کر نہیں ملا پھر بھی اس کی باتوں میں بے رخی کم تھی غم

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی Read More »

ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیں

غزل ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیں کچھ لوگ مگر آگ لگانے میں لگے ہیں تاریخ تو تاریخ ہے ہرگز نہ مٹے گی ناداں ہیں جو تاریخ مٹانے میں لگے ہیں افسوس کہ اس جنگ میں اب ظل الٰہی خود اپنے ہی لشکر کو ہرانے میں لگے ہیں وہ ہے کہ کہانی ہی

ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیں Read More »

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا

غزل کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا پیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیا میں کوئی وعدہ فراموش نہیں ہوں پھر بھی مجھ پہ الزام ہے میں اپنا کہا بھول گیا اپنے بچوں کے کھلونے تو اسے یاد رہے گھر میں بیمار پڑی ماں کی دوا بھول گیا کر تو

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا Read More »

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے

غزل اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے ہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھے کچھ تڑپتی آرزوئیں چند بے معنی سوال کارواں میں سب کے سر پر بس یہی سامان تھے ہم نے اس دنیا کے مے خانہ میں یے دیکھا فریب بس وہی پیاسے رہے جو صاحب ایمان تھے

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے Read More »

سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیں

غزل سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیں مگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیں پڑی ہیں ریت کے ٹیلوں پہ ٹوٹی کشتیاں اپنی ہوا ہے اب کے موجوں نے سمندر بیچ ڈالے ہیں اگر وہ میری آنکھیں بیچ دیتا تو مناسب تھا مگر اس نے تو ان آنکھوں کے

سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیں Read More »

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ

غزل یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ حادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگ جب مجھے دشواریوں سے رو بہ رو ہونا پڑا تب میں سمجھا ریزہ ریزہ کیوں بکھر جاتے ہیں لوگ صرف غازہ ہی نہیں چہروں کی رعنائی کا راز شدت غم کی تپش سے

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ Read More »

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو

غزل جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو مثال آب رواں راستے تلاش کرو یہ اضطراب رگوں میں بہت ضروری ہے اٹھو سفر کے نئے سلسلے تلاش کرو یہ سر زمین سفر کے لئے بہت کم ہے چلو افق پہ نئے مرحلے تلاش کرو جو تھک گئے ہو یہ بوسیدہ زندگی جی کر تو

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو Read More »

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی

غزل مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی ان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گی آگ گلشن میں لگا دی اور سوچا بھی نہیں ان گلوں کے ساتھ کتنی تتلیاں جل جائیں گی نفرتوں کی آندھیاں یوں ہی اگر چلتی رہی راکھ میں پنہاں ہیں جو چنگاریاں جل جائیں گی آسمانوں کو جلا

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی Read More »

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا

غزل عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا زندگی میں تو ترے ناز اٹھانے سے رہا جب بھی دیکھا تو کناروں پہ تڑپتا دیکھا یہ سمندر تو مری پیاس بجھانے سے رہا بس یہی سوچ کے سر اپنا قلم کر ڈالا اب وہ الزام مرے سر تو لگانے سے رہا اس زمانہ میں

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا Read More »