MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نظم کی زبان آل احمد سرور

نظم کی زبان آل احمد سرور   زبان کا تصور سماج کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ فرد کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی، وہ سماج سے ایک زبان سیکھتا ہے۔ تحریر کی اہمیت کے باوجود، زبان کی بنیاد بول چال میں ہے۔ زبان سیکھ لی جائے تو یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ زبان […]

نظم کی زبان آل احمد سرور Read More »

اردو شاعری میں خمریات آل احمد سرور

اردو شاعری میں خمریات آل احمد سرور شعر و ادب میں شراب کا ذکر اس کثرت سے کیوں ہوتا ہے یہ تو اس پرانے گنہگار سے پوچھئے جو مست جام شراب ہونا کافی نہیں سمجھتا بلکہ غرق جام شراب ہونا چاہتا ہے۔ میں تو توبۃ النصوح قسم کا آدمی ہوں، دور سے تماشہ دیکھنے والا!

اردو شاعری میں خمریات آل احمد سرور Read More »

ایسا نہیں کہ میں ہی سحر ڈھونڈتا رہا

غزل ایسا نہیں کہ میں ہی سحر ڈھونڈتا رہا ہر شخص بادلوں میں قمر ڈھونڈتا رہا خود کو دیار یار میں ڈھونڈا گلی گلی لیکن ملی نہ کوئ خبر ڈھونڈتا رہا دیکھا جو ہر طرف تو انا کے ہی بت ملے کوئ ملا نہ مجھ کو بشر ڈھونڈتا رہا ملتی کہاں سے مجھ کو محبت

ایسا نہیں کہ میں ہی سحر ڈھونڈتا رہا Read More »

ڈوبنا جب ہو مقدر کیا کنارا دیکھنا

غزل ڈوبنا جب ہو مقدر کیا کنارا دیکھنا دور رہ کر ہی سہی پر تم نظارہ دیکھنا یہ نہیں کہتا کہ ڈوبوں تو بچا لینا مجھے ہاں مگر جاتے ہوئے مڑ کر دوبارہ دیکھنا جیت جاتا ہوں کبھی جب زندگی کی دوڑ میں پھر پلٹ آتی ہیں یادیں وہ تمھارا دیکھنا آپ ہی ڈھونا ہے

ڈوبنا جب ہو مقدر کیا کنارا دیکھنا Read More »

دل میں بھی کسک ہوتی ہے زخمی ہے جگر بھی

غزل دل میں بھی کسک ہوتی ہے زخمی ہے جگر بھی دنیائے حوادث سے ہوں میں سینہ سپر بھی مرنے کی خبر سے ہی اگر چین ملے گا سن لو گے کسی دن مرے مرنے کی خبر بھی اوروں کو نصیحت تو کیا کرتے ہو لیکن کی اپنے گریباں پہ کبھی تم نے نظر بھی

دل میں بھی کسک ہوتی ہے زخمی ہے جگر بھی Read More »

ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے

غزل ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے اپنا یہی ایمان ہے اپنا یہی دیں ہے اسکا سا کوئی اور جہاں بھر میں نہیں ہے وہ اتنا حسین اتنا حسین اتنا حسین ہے ہونا بھی جو چاہیں تو جدا ہو نہیں سکتے برسوں کی رفاقت ہے کوئ کھیل نہیں ہے احساس کی صورت

ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے Read More »

چمن ہے ترا اشیانے ترے ہیں

غزل چمن ہے ترا اشیانے ترے ہیں گلوں کی زباں پر فسانے ترے ہیں مری زندگی گر غموں سے بھری ہے تو دن رات پھر کیوں سہانے ترے ہیں گمانِ حقیقت مجھے ہورہا ہے بہت خوبصورت بہانے ترے ہیں نہ کیوں رنگ و نکہت کی بارش ہو تجھ پر جوانی ہے تیری زمانے ترے ہیں

چمن ہے ترا اشیانے ترے ہیں Read More »

تیر کہتا ہے نہیں اج میں چلنے والا

غزل تیر کہتا ہے نہیں اج میں چلنے والا میں بھی امکان سے اگے کو ہوں بڑھنے والا اتنے گہرے ترے پیکر نے کئے ثبت نقوش تیرا احساس نہیں دل سے نکلنے والا کس نے اب شوقِ مسیحائی کی چادر اوڑھی کون احساس کی سولی پہ ہے چڑھنے والا کوئ تو شخص قبیلے سے بغاوت

تیر کہتا ہے نہیں اج میں چلنے والا Read More »

ہم نے سوچا ہے کہ اب زخم سنبھالے جائیں

غزل ہم نے سوچا ہے کہ اب زخم سنبھالے جائیں دل میں کانٹے جو چبھے ہیں وہ نکالے جائیں دسترس میں ہے نہ تو اور نہ تیری الفت اب کے آنکھوں میں ترے خواب نہ پالے جائیں ضبط کو میرے مرا جرم سمجھنے والے میرے آنسو نہ ترا تخت بہا لے جائیں جن کو جانا

ہم نے سوچا ہے کہ اب زخم سنبھالے جائیں Read More »

تیری قربت میں گر نہیں آتے

غزل تیری قربت میں گر نہیں آتے آگہی کے ہنر نہیں آتے آپ اک بار ہم سے کہہ دیتے ہم کبھی یوں ادھر نہیں اتے کوئ تو زخم بھی دیا ہوگا بے سبب اشک بھر نہیں آتے زخم پر زخم لگ رہے ہیں مجھے اور پتھر نظر نہیں آتے قدر کرتا اگر جہاں فن کی

تیری قربت میں گر نہیں آتے Read More »