MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

غزل کا فن آل احمد سرور

غزل کا فن آل احمد سرور غزل کے سلسلے میں پہلے اپنے دو شعر پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں، غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمایش ہے یعنی […]

غزل کا فن آل احمد سرور Read More »

فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں

غزل فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں دشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیں ہر نئی بات بھلا دیتی ہے پہلے کا خیال وہ تو اخبار ہیں بس تازہ خبر رکھتے ہیں مٹ گیا رنگ تعلق تو یہ چہرے کے نقوش ایک اک خط تأثر میں خبر رکھتے ہیں ایسے لوگوں

فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں Read More »

چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی

غزل چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی میری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگی چپ کی چادر اوڑھ تو لی ہے پاؤں چھپیں سر کھل چائے محرومی کی دھوپ نہ جانے کب سے آوازوں میں لگی ان سے ظلمت دشت مقدر اور سیاہ نہ ہو جائے چھوڑ نہ دیتا

چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی Read More »

عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنا

غزل عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنا زمیں کو راس کب آیا ہے آسماں رکھنا سفر کرو کہ ٹھہر جاؤ اک عذاب ہے یہ قدم کو ہجرت و منزل کے درمیاں رکھنا کسی کا شور فغاں سن کے یاد آیا بہت فصیل غم میں مرا درد بے زباں رکھنا کھلی فضا میں تو

عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنا Read More »

اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے

غزل اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے کیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائے جب سے دیکھے ہیں تری آنکھوں کے ساگر ہم نے اک نئی آرزو ابھری ہے کہ ڈوبا جائے میں سماعت میں سمیٹے ہوں ہزاروں دشنام ضبط غم کا ہے یہ ارشاد نہ بولا جائے ہم کو اس خواب محبت

اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے Read More »

شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں

غزل شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں ہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیں کس جرم میں یہ پہلو تہی ہم سے روا ہے اے شیشۂ گرد ہم کوئی پتھر کے نہیں ہیں سربستۂ زنجیر کیا ہم کو جنہوں نے وہ لوگ اسی گھر کے ہیں باہر کے نہیں ہیں

شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں Read More »

یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے

غزل یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے ابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہے یہ ورثہ ہم سے نئی نسل کو کبھی نہ ملے زباں ہمارے بزرگوں نے بے نوا دی ہے خراج آرزوئے موسم بہار ہے یہ لہو لہو جو مرے پیرہن کی وادی ہے کوئی بھی گھر سے نہ

یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے Read More »

شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے

غزل شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے اس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہے ایسا سیلاب کہ جنگل کو بہا لے جائے ایسے سیلاب میں بے برگ شجر کس کا ہے انگلیوں میں اتر آئے ہیں بصارت کے رموز تیرگی میں رہے مخفی یہ ہنر کس کا ہے

شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے Read More »

بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا

غزل بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا تجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھا وجود سونپ کے سب کچھ بچا لیا ہم نے نہ آنکھ میں کوئی آنسو نہ سانحہ دیکھا کتاب زیست بھی اپنی نہیں رہی کہ یہاں ہر اک ورق پہ نیا ایک حاشیہ دیکھا خلاف موج سمندر شناس بہہ نکلے

بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا Read More »

یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے

غزل یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے ہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہے جزائے کاوش تعمیر یہ ملی ہے ہمیں صدائے تیشہ سدا ساتھ گھر میں رہتی ہے ہنر کسی میں ہو قسمت ہے اس کی در بدری کہ آب و تاب گہر کب گہر میں رہتی ہے سماعتوں کا پیمبر ہی

یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے Read More »