گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے
غزل گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے کون سے دیس سے لائیں گے زمانے والے دھوپ بخشی ہے تو پھر سایۂ دیوار بھی دے لوگ سورج کو ہیں معبود بنانے والے دل کو آمادۂ تجدید وفا کیسے کروں رس رہے ہیں ابھی ناسور پرانے والے یوں تو ملتے ہیں ہر اک جسم […]
گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے Read More »