MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے

غزل گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے کون سے دیس سے لائیں گے زمانے والے دھوپ بخشی ہے تو پھر سایۂ دیوار بھی دے لوگ سورج کو ہیں معبود بنانے والے دل کو آمادۂ تجدید وفا کیسے کروں رس رہے ہیں ابھی ناسور پرانے والے یوں تو ملتے ہیں ہر اک جسم […]

گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے Read More »

وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی

غزل وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی بات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھی دل تو پہلے ہی تھا محصور غم تنہائی اس پہ دھرنا دئے بیٹھی ہے یہ پروائی بھی جس طرف رخ ہو ہوا کا یہ برستی ہے وہیں ابر کی طرح سے ہوتی ہے شناسائی بھی دل کو

وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی Read More »

میرواہ کی راتیں ناول نگار رفاقت حیات

میرواہ کی راتیں ناول نگار رفاقت حیات آج کی رات اس کی بے کارر زندگی کی گزشتہ تمام راتوں سے بے حد مختلف تھی، شاید اسی لیے نیند اس کی آنکھوں سے پھسل کر رات کے گھپ اندھیرے میں کہیں گم ہو گئی تھی، مگر وہ اسے تلاش کرنے کی بے سود کوشش کر رہا

میرواہ کی راتیں ناول نگار رفاقت حیات Read More »

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

غزل ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے وہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہے ہم خواب دیکھتے تھے بہت آسمان کے آخر میں یہ ہوا کہ زمیں کے نہیں رہے ہم میں تھے جانے کون سے کانٹے اگے ہوئے سب کے رہے ہیں آپ ہمیں کے نہیں رہے دل کو

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے Read More »

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے

غزل تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے اصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئے ہم بھی چٹان تھے مگر ضرب شدید وقت سے ہر لمحہ ٹوٹتے رہے آخر غبار ہو گئے ترکش میں جس کے تیر تھے نہ ہاتھ میں کمان تھی شومئی بخت دیکھتے اس کا شکار

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے Read More »

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

غزل کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے وقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئے تو مری دہلیز پر آ کر ٹھہر جاتا ہے کیوں تو تو دریا ہے تجھے تو بس روانی چاہئے ہاتھ میں جس کے بھی دیکھو آگ کا کشکول ہے اور ہر اک کشکول کو کچھ بوند پانی چاہئے زندگی

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے Read More »

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

غزل ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم Read More »

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

غزل نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا چراغ لینے گیا آفتاب لے آیا ابھی جلا کے اٹھا ہوں پرانے خوابوں کو وہ میرے واسطے پھر تازہ خواب لے آیا پھر آج بھاؤ سمندر کا آسمان پہ تھا پھر آج اپنے لئے میں سراب لے آیا فسردہ دیکھ کے اس کو بہت پشیماں ہوں

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا Read More »

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

غزل شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا حدود میں اپنی رہ کے شاید بچا سکوں میں وجود اپنا میں ایک قطرہ ہوں مجھ کو دریا کے راستے پر نہ ڈال دینا اگر خلا میں پہنچ گیا

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا Read More »

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک

غزل حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک تم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تک سمندروں کی ریاستوں کو لٹا کے آوارہ پھرنے والو اب ایک قطرہ کی منتوں سے کرو گے خود کو ذلیل کب تک تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک Read More »