MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کُچھ نئے حرف لِکھوں، کوئی نئی بات کروں

غزل کُچھ نئے حرف لِکھوں، کوئی نئی بات کروں کُچھ تو ہو پاس مِرے جس سے مباہات کروں اجنبیّت! تِرے ماحول میں دَم گُھٹتا ہے کوئی ایسا بھی مِلے، جس سے کوئی بات کروں کُچھ تو مجھ سے بھی مِلے میرے تمدّن کا سُراغ ترک مَیں کیوں روِشِ پاسِ روایات کروں گردِشِ وقت، کہ پُوچھے […]

کُچھ نئے حرف لِکھوں، کوئی نئی بات کروں Read More »

جو اہلِ دِل ہیں آلِ پیمبرؑ کے ساتھ ساتھ

غزل جو اہلِ دِل ہیں آلِ پیمبرؑ کے ساتھ ساتھ محشر میں ہونگے ساقئ کوثرؑ کے ساتھ ساتھ کمتر کا بھی مقام ہے برتر کے ساتھ ساتھ کانٹے لگے ہُوئے ہیں گُلِ تر کے ساتھ ساتھ آئی نہ جانے کیوں کسی بچھڑے ہُوئے کی یاد دیکھے جو دو پرند برابر کے ساتھ ساتھ میرا وجوُد

جو اہلِ دِل ہیں آلِ پیمبرؑ کے ساتھ ساتھ Read More »

اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے!

غزل اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے! حُسن کو خود سُپردگی آئے اب ہَمَیں دے گی کیامزہ یہ شراب ہم تو آنکھوں سے اُس کی، پی آئے دُشمنوں سے بھی راہ و رسم بڑھیں دوستوں میں جو کچھ کمی آئے دِل کے آنگن میں کُچھ اندھیرا ہے کسی مُکھڑے کی روشنی آئے اِس طرح آرہا

اب تو ایسی کوئی گھڑی آئے! Read More »

خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ

نظم اللہ جمیلُ و یحبُ الجمال (اللہ حَسِین ہے اور حُسن سے محبّت کرتا ہے) خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ خالقِ کُلِّ ممکنات ہے وہ خالقِ کائناتِ حُسن ہی حُسن اُس کی ذات و صِفات حُسن ہی حُسن حُسن سے مُنکشف نمودِ خُدا حُسن ہی حُسن ہے وجودِ خُدا سر بَسر حُسنِ نُورِ ذات ہے

خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ Read More »

ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں

غزل ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں میرے غم خوار دل آزار بنے بیٹھے ہیں بات کیا ان سے کروں ان کے اٹھاؤں کیوں کر مدعی بیچ میں دیوار بنے بیٹھے ہیں ناتوانی نے ادھر پاؤں پکڑ رکھے ہیں وہ نزاکت سے گراں بار بنے بیٹھے ہیں کیا بری شے ہے محبت

ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں Read More »

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا

غزل کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا قسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتا جاتے تو قلق ہوتا آتے تو خفا ہوتے ہم جاتے تو کیا ہوتا وہ آتے تو کیا ہوتا شکوؤں کا گلا کیا ہے انصاف تو کر ظالم کیا کچھ نہ کیا ہوتا گر تو میری جا

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا Read More »

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو

غزل جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو یہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہو تباہی سامنے موجود ہے گر آشنا تم ہو خدا حافظ ہے اس کشتی کا جس کے ناخدا تم ہو جفا جو بے مروت بے وفا ناآشنا تم ہو مگر اتنی برائی پر

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو Read More »

کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے

غزل کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے چھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتے شوق بن بن کے مرے دل میں ہیں آتے جاتے درد بن بن کے ہیں پہلو میں سماتے جاتے خیر سے غیر کے گھر روز ہیں آتے جاتے اور قسمیں بھی مرے سر کی ہیں کھاتے جاتے

کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے Read More »

بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا

غزل بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا لے تجھے آزما کے دیکھ لیا تم نے مجھ کو ستا کے دیکھ لیا ہر طرح آزما کے دیکھ لیا ان کے دل کی کدورتیں نہ مٹیں اپنی ہستی مٹا کے دیکھ لیا کچھ نہیں کچھ نہیں محبت میں خوب جی کو جلا کے دیکھ لیا کچھ

بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا Read More »

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا

غزل دل گیا دل کا نشاں باقی رہا دل کی جا درد نہاں باقی رہا کون زیر آسماں باقی رہا نیک ناموں کا نشاں باقی رہا ہو لیے دنیا کے پورے کاروبار اور اک خواب گراں باقی رہا رفتہ رفتہ چل بسے دل کے مکیں اب فقط خالی مکاں باقی رہا چل دیے سب چھوڑ

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا Read More »