MOJ E SUKHAN

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا

غزل

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا
قسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتا

جاتے تو قلق ہوتا آتے تو خفا ہوتے
ہم جاتے تو کیا ہوتا وہ آتے تو کیا ہوتا

شکوؤں کا گلا کیا ہے انصاف تو کر ظالم
کیا کچھ نہ کیا ہوتا گر تو میری جا ہوتا

گر صلح ٹھہر جاتی سو فتنے اٹھے ہوتے
اچھا ہے نہ ملنا ہی ملتے تو برا ہوتا

سوچو تو ظہیرؔ آخر وہ جور تو کرتا ہے
میں اس سے گلا کر کے محروم جفا ہوتا

ظہیر دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم