MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو

غزل وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو وہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہو عدو تم سے تم ان سے بدگماں ہو تمھارے وہ تم ان کے پاسباں ہو بھلا تم اور مجھ پر مہرباں ہو عنایت یہ نصیب دشمناں ہو مرا حال اور پھر میرا بیاں ہو عجب کیا گر عدو […]

وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو Read More »

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے

غزل ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے اس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گے کہئے تو کہوں انجمن غیر کو روداد کیا اب بھی اسے آپ کرامت نہ کہیں گے سمجھیں گے نہ اغیار کو اغیار کہاں تک کب تک وہ محبت کو محبت نہ کہیں گے جب عربدہ جو تم ہو

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے Read More »

جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم

غزل جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم تم کیا خفا ہو خود ہیں خفا زندگی سے ہم کچھ ایسے بدحواس ہیں دل کی لگی سے ہم کہتے ہیں مدعائے دل مدعی سے ہم بے زار ہو چکے ہیں بہت دل لگی سے ہم بس ہو تو عمر بھر نہ ملیں

جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم Read More »

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں

غزل تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں گھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں پردہ اٹھے کہ نہ اٹھے مگر اے پردہ نشیں آج ہم رسم تکلف کو اٹھا دیتے ہیں آتے جاتے نہیں

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں Read More »

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

غزل بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے یہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے وہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے Read More »

وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

غزل وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ کسی پہ تھا کوئی مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم بھی تم بھی تھے ایک جا تمہیں یاد ہو

وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو Read More »

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں

غزل جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں پھر مرا دل وہاں لگا ہی نہیں خود کو میں نے کبھی نہیں دیکھا میرے کمرے میں آئنہ ہی نہیں کیوں میں تعبیر ڈھونڈھتی پھرتی خواب آنکھوں میں کوئی تھا ہی نہیں اب ہواؤں کو تیز چلنے دو اب مرے ہاتھ میں دیا ہی نہیں وہ

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں Read More »

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا

غزل طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا کشتی بھنور میں تھی تو روانی کا کیا بنا کردار تو شروع میں مارا گیا مگر یہ تو بتا کے جاؤ کہانی کا کیا بنا اس نے خبر یہ دی مرا آنگن اجڑ گیا میں سوچتی ہوں رات کی رانی کا کیا بنا اب پیڑ تو

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا Read More »

سانس کی مہلت کیا کر لے گی

غزل سانس کی مہلت کیا کر لے گی اب یہ سہولت کیا کر لے گی بے بس کر کے رکھ دے گی نا اور محبت کیا کر لے گی کیا کر لے گا چارہ گر بھی درد کی شدت کیا کر لے گی ایک جہنم کاٹ لیا ہے اب یہ قیامت کیا کر لے گی

سانس کی مہلت کیا کر لے گی Read More »

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے

غزل محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ دیا گیا ہے چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئے گئے ہیں اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے کبھی جو یاد پرانی سجی تھی کمرے میں اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے صدائیں

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے Read More »