MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دو چوہے تحریر جمیل جالبی

دو چوہے   تحریر جمیل جالبی   دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا، اس لیے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے […]

دو چوہے تحریر جمیل جالبی Read More »

دو دوست دو دشمن تحریر جمیل جالبی

دو دوست دو دشمن تحریر جمیل جالبی   گھنے جنگل میں ایک دلدل کے قریب برسوں سے ایک چوہا اور ایک مینڈک رہتے تھے۔ بات چیت کے دوران ایک دن مینڈک نے چوہے سے کہا ’’اس دلدل میں میرا خاندان صدیوں سے آباد ہے اور اسی لیے یہ دلدل جو مجھے باپ دادا سے ملی

دو دوست دو دشمن تحریر جمیل جالبی Read More »

نادانی کی سزا تحریر جمیل جالبی

نادانی کی سزا تحریر جمیل جالبی   گرمی میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ چلچلاتی دھوپ میں، تپتی ہوئی زمین پر چلنے سے وہ جلد ہی تھک گیا اور ایک بڑے سے سایہ دار گھنے درخت کے نیچے آرام کرنے لیٹ گیا۔ ابھی وہ سویا ہی تھا کہ کچھ چوہے اپنے بلوں سے باہر نکلے

نادانی کی سزا تحریر جمیل جالبی Read More »

مغرور لومڑی تحریر جمیل جالبی

مغرور لومڑی تحریر جمیل جالبی   ایک بلی آبادی سے دور ایک جنگل میں رہتی تھی۔ وہیں پاس ہی ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔ آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ایک دوسرے سے ہو جاتی تھی۔ ایک دن جب سورج چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ایک گھنے پیڑ کے نیچے ان

مغرور لومڑی تحریر جمیل جالبی Read More »

نا شکرا ہرن تحریر جمیل جالبی

نا شکرا ہرن تحریر جمیل جالبی   یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب بندوق ایجاد نہیں ہوئی تھی اور لوگ تیر کمان سے شکار کھیلتے تھے۔ ایک دن کچھ شکاری شکار کی تلاش میں جنگل میں پھر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک ہرن پر پڑی۔ وہ سب اس کے پیچھے ہو

نا شکرا ہرن تحریر جمیل جالبی Read More »

قصہ ایک بھیڑیے کا تحریر جمیل جالبی   

قصہ ایک بھیڑیے کا تحریر جمیل جالبی      ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چاندنی رات میں ایک دبلے پتلے، سوکھے مارے بھوکے بھیڑیے کی ایک خوب کھائے پیئے، موٹے تازے کتّے سے ملاقات ہوئی۔ دعا سلام کے بعد بھیڑیے نے اس سے پوچھا، ’’اے دوست! تُو تو خوب تر و تازہ دکھائی دیتا

قصہ ایک بھیڑیے کا تحریر جمیل جالبی    Read More »

درد بخشا گیا ہے سہنے کو

غزل درد بخشا گیا ہے سہنے کو کیسی دنیا ملی ہے رہنے کو قافیہ تنگ ہے اگرچہ میاں اشک کافی ہیں حال کہنے کو اتنی اچھی نہیں ہے در بدری سینہ حاضر ہے تیرے رہنے کو حسب سابق وہ کہہ نہیں پائے ہم گئے تھے جو بات کہنے کو نجمؔ قائم ہے ضبط بھی لیکن

درد بخشا گیا ہے سہنے کو Read More »

بعد مدت کے ہجر سا دینا

غزل بعد مدت کے ہجر سا دینا میرے ہاتھوں میں آئنہ دینا اچھا لگتا ہے اس زمانے کو بعد مرنے کے بت بنا دینا جی یہ توہین ہے چراغوں کی رات باقی ہو اور بجھا دینا کینوس پر بہار اترے گی آپ کچھ تتلیاں بنا دینا مشورہ ہے کہ ہم جئے جائیں کتنا آساں ہے

بعد مدت کے ہجر سا دینا Read More »

تو میسر نہیں ہے، سردی ہے

غزل تو میسر نہیں ہے، سردی ہے اور دسمبر کی غنڈہ گردی ہے ٹوٹ جائے اگر تو ہر انڈا کچھ سفیدی ہے اور زردی ہے ایک وردی ہے ماس بھی گویا ایک وردی کے پیچھے وردی ہے نجمؔ جھولی ہے آنکھ بھی گویا ہم نے پھیلائی اس نے بھر دی ہے جی اے نجم

تو میسر نہیں ہے، سردی ہے Read More »

زخم کھا کے مسکرانا آ گیا

غزل زخم کھا کے مسکرانا آ گیا وصف یہ بھی شاعرانہ آ گیا طاقچے میں اک دعا رکھی گئی اک دیے کو سر چھپانا آ گیا پھول تازہ ہی سہی گلدان میں درد کمرے میں پرانا آ گیا دیکھ لو چپ چاپ اٹھ کے چل دیے دیکھ لو رشتہ نبھانا آ گیا دیکھیے یہ نجمؔ

زخم کھا کے مسکرانا آ گیا Read More »