MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اے میرے من کے شاہ پیا

غزل اے میرے من کے شاہ پیا مجھے آج بھی تیری چاہ پیا مرے دل میں سچی پریت تری تجھے کون کیا گمراہ پیا میں گلے میں مالا ڈال پھری میں نے اوڑھا رنگ سیاہ پیا تو جس جس رستے سے گزرا میں نے چومی ہر وہ راہ پیا میں نے نو من تیل جلایا […]

اے میرے من کے شاہ پیا Read More »

تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے

غزل تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے کہ دل شہر تمنا ہے تو محرومی کا گھر بھی ہے وفا کے باغ میں جھولے پڑے ہیں آرزوؤں کے دعاؤں کی ہری بیلوں پہ خواہش کا ثمر بھی ہے فصیل فکر پہ یادوں کی قندیلیں بھی ضو افشاں تمہاری منتظر میں ہی

تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے Read More »

رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی

غزل رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی دھول ہوتی تو کبھی دھول اڑایا کرتی کسی دھاگے سے بندھا آتا اگر تو مرے پاس منتوں والے دیے روز جلایا کرتی میں شجرکاری کے موسم میں اگاتی کوئی پیڑ اور محبت سے پرندوں کو بلایا کرتی پوچھتا مجھ سے اگر کوئی مرادیں ساری میں ترا

رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی Read More »

آپ آتے تو بات بنتی بھی

غزل آپ آتے تو بات بنتی بھی آپ رکتے تو حال کہتے ناں آپ کا ہجر سہہ لیا ہم نے یہ قیامت جو آپ سہتے ناں آپ ملتے تھے جی رہے تھے ہم ملتے رہتے تو زندہ رہتے ناں میرے پہلو میں چین ملتا تھا میرے پہلو میں آپ رہتے ناں آپ کہتے کہ لوٹ

آپ آتے تو بات بنتی بھی Read More »

تمہیں پانے کی خاطر میں سمندر پار آئی تھی

غزل تمہیں پانے کی خاطر میں سمندر پار آئی تھی کہ جو کچھ پاس تھا میرے وہ سب کچھ وار آئی تھی زمانہ بھی غضب کی چال میرے ساتھ چلتا تھا عجب جیون کی بازی تھی میں خود کو ہار آئی تھی وہاں پر کم سے کم تیری زیارت ہو ہی جاتی تھی میں تیرا

تمہیں پانے کی خاطر میں سمندر پار آئی تھی Read More »

ہمارے درمیاں قربت کہاں تھی

غزل ہمارے درمیاں قربت کہاں تھی وہ مل جاتا مری قسمت کہاں تھی اسے چاہا اسی کے خواب دیکھے سوا اس کے مجھے فرصت کہاں تھی مرے دل میں اٹھے طوفان لاکھوں مگر لہجے میں وہ شدت کہاں تھی بہت مصروف رہتا تھا وہ آخر اسے میرے لئے فرصت کہاں تھی مجھے کہنا تھا حال

ہمارے درمیاں قربت کہاں تھی Read More »

مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن

غزل مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن مجھے چاہ نہ کوئی اور سجن میں نے اوڑھا رنگ سیاہ فقط دئے کنگن چوڑی توڑ سجن میں نے تجھ سے سچا عشق کیا دی ساری دنیا چھوڑ سجن تری یاد سے باہر نکلوں میں مجھے آ کر یوں جھنجھوڑ سجن میں ہر درگاہ پہ جاؤں گی ہو سندھ

مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن Read More »

تیری راہوں میں ڈال کر ڈیرے

غزل تیری راہوں میں ڈال کر ڈیرے ترے رستے میں بیٹھنا ہے مجھے تیری راہوں کی خاک چھاننی ہے خود کو مٹی میں روندنا ہے مجھے وصل کی اب نہیں کوئی صورت دور سے روز دیکھنا ہے مجھے تجھ کو چھونے کی بھی نہیں خواہش تجھ کو آنکھوں سے چومنا ہے مجھے تجھ کو صحن

تیری راہوں میں ڈال کر ڈیرے Read More »

مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ

غزل مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ اف مقدر میں کب لکھا تھا وہ میں گئی حال دل سنانے کو اور رش میں گھرا ہوا تھا وہ جس کو ترسی رہیں مری آنکھیں سامنے ہی کھڑا ہوا تھا وہ جس کی خاطر سنور کے آئی میں اک نظر بھی نہ دیکھتا تھا وہ

مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ Read More »

بادشاہ چیل تحریر جمیل جالبی

بادشاہ چیل تحریر  جمیل جالبی بچو! یہ اس چیل کی کہانی ہے جو کئی دن سے ایک بڑے سے کبوتر خانے کے چاروں طرف منڈلارہی تھی اور تاک میں تھی کہ اڑتے کبوتر پر جھپٹا مارے اور اسے لے جائے لیکن کبوتر بھی بہت پھرتیلے، ہوشیار اور تیز اڑان تھے۔ جب بھی وہ کسی کو

بادشاہ چیل تحریر جمیل جالبی Read More »