MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سانس میری یہ آخری تو نہیں

غزل سانس میری یہ آخری تو نہیں ساتھ تیرے ملی ہوئی تو نہیں جب تلک ہے اسے گزاروں گا زندگی تیری دی ہوئی تو نہیں جو سہولت بنی ہے تیرے لیے وہ سہولت بنی ہوئی تو نہیں اپنا ہونا گنوانا پڑتا ہے سہل اتنی بھی سادگی تو نہیں چھوڑ آئے ہو جو بھری دنیا پھر […]

سانس میری یہ آخری تو نہیں Read More »

چھوڑ زنجیر کو دہائی دے

غزل چھوڑ زنجیر کو دہائی دے تاکہ لوگوں کو بھی سنائی دے کب کہا تھا مجھے خدائی دے میرے اندر سے تو دکھائی دے کھینچ سینے سے تیر دھڑکن کا کھینچ لے اور مجھے رہائی دے تیری جانب سراغ جائے گا جان من اتنی مت صفائی دے میں تری آنکھ میں اتر پاؤں اس قدر

چھوڑ زنجیر کو دہائی دے Read More »

تیرے جیسا کمال کر لیتا

غزل تیرے جیسا کمال کر لیتا میں بھی رنجش بحال کر لیتا رسم الفت کا پاس ہے ورنہ غیر خود پہ حلال کر لیتا تو دھڑکتا اگر نہ سینے میں سانس دھڑکن کو ٹال کر لیتا اہل دنیا تو اہل دنیا ہیں تو تو میرا خیال کر لیتا پھول سے دوستی نبھانی تھی کم سے

تیرے جیسا کمال کر لیتا Read More »

ایک چہرے پہ اڑ گیا ہوں میں

غزل ایک چہرے پہ اڑ گیا ہوں میں کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں میں تو سمجھ ہجر میری مرضی ہے تو سمجھ خود بچھڑ گیا ہوں میں جیسے گل داں خزاں کے موسم میں دیکھو کتنا اجڑ گیا ہوں میں تیری اصلاح کا نتیجہ ہے اس قدر جو بگڑ گیا ہوں میں نیلگوں جھیل

ایک چہرے پہ اڑ گیا ہوں میں Read More »

پل دو پل کی جو آشنائی تھی

غزل پل دو پل کی جو آشنائی تھی مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی پھر کسی دوسرے کی ہو جانا یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی مانگتے کیوں ہو تم دلیل خدا گر خدا تھا تو یہ خدائی تھی

پل دو پل کی جو آشنائی تھی Read More »

ایک چہرہ ہدف بنانے پر

غزل ایک چہرہ ہدف بنانے پر دھر لیا کیوں ہمیں نشانے پر سوچتا ہوں یہ کیا تسلسل ہے ٹوٹ جاتا ہے سانس آنے پر سارے موتی بکھرتے جاتے ہیں ایک دھاگے کے ٹوٹ جانے پر ہجر پیچھے ہی پڑ گیا میرے چند لمحوں کو گدگدانے پر انگلیاں نجمؔ خود پہ اٹھنے دے تو نہ انگلی

ایک چہرہ ہدف بنانے پر Read More »

کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد

غزل کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد بن گئی تلوار ان کے ہاتھ میں آنے کے بعد جام جم کی دھوم ہے سارے جہاں میں ساقیا مانتا ہوں میں بھی لیکن تیرے پیمانے کے بعد شکریہ واعظ جو مجھ کو ترک مے کی دی صلاح غور میں اس پر کروں گا

کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد Read More »

اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے

غزل اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے یہ قفس یہ آشیانا اور ہے موت کا آنا بھی دیکھا بارہا پر کسی پر دل کا آنا اور ہے ناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی اپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے درد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی بندہ پرور یہ فسانا اور ہے رات

اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے Read More »

عکس ہے آئنۂ دہر میں صورت میری

غزل عکس ہے آئنۂ دہر میں صورت میری کچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت میری دیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری سچ ہے احسان کا

عکس ہے آئنۂ دہر میں صورت میری Read More »

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

غزل نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں گنہ گنہ نہ رہا اتنی بادہ نوشی کی اب ایک شغل ہے کچھ لذت شراب نہیں ہمیں تو دور سے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں نقاب لپٹی ہے اس پر کوئی عتاب نہیں پیے بغیر چڑھی رہتی ہے حسینوں کو وہاں

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں Read More »