MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

غزل جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش […]

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے Read More »

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

غزل جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے یہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہمارے اور تمہارے واسطے میں اک نیا پن تھا مگر دنیا پرانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے عیاں کر دی ہر اک پر ہم نے اپنی داستان دل یہ کس کس سے

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے Read More »

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

غزل اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں اہل دنیا

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں Read More »

سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا

غزل سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا بات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیا عشق میں الجھنیں پہلے ہی کم نہ تھیں اور پیدا نیا درد سر کر لیا لوگ ڈرتے ہیں قاتل کی پرچھائیں سے ہم نے قاتل کے دل

سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا Read More »

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے

غزل اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے لیکن یہ یقیں کون دلائے گا کہاں ہے یہ روح کسی اور علاقے کی مکیں ہے یہ جسم کسی اور جزیرے کا مکاں ہے کرتا ہے وہی کام جو کرنا نہیں ہوتا جو بات میں کہتا ہوں یہ دل سنتا کہاں ہے کشتی کے مسافر

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے Read More »

احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے

غزل احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے آدمی ہے کوئی خدا نہیں ہے دشت میں آتے جاتے رہتے ہیں یہ ہمارے لیے نیا نہیں ہے تم سمجھتے ہو ناخدا خود کو تم پہ دریا ابھی کھلا نہیں ہے جس کا حل سوچنے میں وقت لگے وہ محبت ہے مسئلہ نہیں ہے باغ پر شعر کہنے والوں

احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے Read More »

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے

غزل جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے اتنا پانی تو مری اوک میں بھر سکتا ہے یہ تو میں روز کنارے پہ کھڑا سوچتا ہوں پیاس بڑھ سکتی ہے دریا بھی اتر سکتا ہے اک دیا اور تو کچھ کر نہیں سکتا لیکن شب کی دیوار میں دروازہ تو کر سکتا ہے

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے Read More »

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے

غزل بات دل کو مرے لگی نہیں ہے میرے بھائی یہ شاعری نہیں ہے جانتی ہے مرے چراغ کی لو کون سے گھر میں روشنی نہیں ہے وہ تعلق بھی مستقل نہیں تھا یہ محبت بھی دائمی نہیں ہے میں جو قصہ سنا چکا تو کھلا کوئی دیوار بولتی نہیں ہے دیکھنے والی آنکھ بھی

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے Read More »

پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا

غزل پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا فریب ذات میں آ کر مرے گا محبت بھی بڑی لمبی سڑک ہے برہنہ پا کوئی کتنا چلے گا ہمارے جاگنے تک دیکھنا تم ہمارے خواب کا چرچا رہے گا ہماری خاک سے دنیا بنی تھی ہماری راکھ سے اب کیا بنے گا یہ چنگاری بھڑک اٹھے گی

پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا Read More »

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے

غزل آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے یعنی مصرع پورا کرنا ہوتا ہے میں دریا کی گہرائی تک جاتا ہوں میں نے کون سا پار اترنا ہوتا ہے اپنے آنسو آپ ہی رونا ہوتے ہیں اپنا گھاؤ آپ ہی بھرنا ہوتا ہے اس صحرا کو پنچھی پوجنے آتے ہیں جس صحرا کے دل

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے Read More »